وفاقی وزیرِ خزانہ اور برطانوی ہائی کمشنر کا ملاقات میں اقتصادی و ترقیاتی تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال
پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر محترمہ جین میریٹ نے وزارتِ خزانہ میں وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کی۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے ہائی کمشنر کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے ساتھ برطانیہ کی دیرینہ ترقیاتی شراکت داری کو سراہا۔ انہوں نے ڈیجیٹلائزیشن، سرکاری مالیاتی نظم و نسق، ماحولیاتی لچک اور تکنیکی معاونت کے شعبوں میں برطانیہ کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
وزیرِ خزانہ نے واشنگٹن ڈی سی میں برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی و افریقہ، بیرونس جینی چیپ مین سے حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے برطانیہ کی قیمتی معاونت، خصوصاً ڈیجیٹل ڈیش بورڈ منصوبے اور موسمیاتی پروگراموں کے لیے تعاون کو سراہا۔
انہوں نے ہائی کمشنر کو پاکستان میں جاری معاشی اصلاحات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ معیشت کے استحکام کے بعد اب ملک معاشی استحکام سے مضبوط اقتصادی ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے تین سال بعد پاکستان کی معاشی درجہ بندی میں بہتری لا کر حکومت کی اصلاحاتی سمت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ اسٹاف لیول معاہدہ، عالمی مالیاتی اداروں، سرمایہ کاروں اور دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ بڑھتے روابط، پاکستان کی اصلاحاتی رفتار پر عالمی اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔
سینیٹر اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت میکرو اکنامک استحکام کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف درمیانی مدت کی منتقلی کے لیے پُرعزم ہے تاکہ معیشت کے روایتی اتار چڑھاؤ کے چکر کو توڑا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ چار سے پانچ سالوں میں بتدریج اضافی کسٹم ڈیوٹیز کم کر کے تجارتی نظام کو آزادانہ بنانے، صنعتی مسابقت بڑھانے اور برآمدات میں اضافہ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
سرمایہ کاری کے ماحول اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر گفتگو کرتے ہوئے، وزیرِ خزانہ نے قابلِ عمل منصوبے تیار کرنے اور نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی کاروباری گروپ نجکاری کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط سرمایہ کاری کے امکانات کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے ہائی کمشنر کو جاری ٹیکس اصلاحات کے بارے میں آگاہ کیا جو دستاویزی نظام، ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس کے دائرے کی وسعت اور لیکیجز کے خاتمے پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس چوری کی روک تھام اور تعمیل میں بہتری کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی مانیٹرنگ سسٹمز متعارف کرائے گئے ہیں۔ مزید کہا کہ حکومت شفافیت پر مبنی ہم منصب جائزہ نظام لا رہی ہے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو اور ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی بہتر ہو۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ٹیکس پالیسی اب ایف بی آر سے الگ کر دی گئی ہے، اور وزارتِ خزانہ صنعتوں کے ساتھ مسلسل مشاورت کے لیے شعبہ وار مشاورتی نظام قائم کر رہی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے ہنرمند افرادی قوت کے تحفظ، آئی ٹی سیکٹر میں ٹیکس سے متعلق مسائل کے حل، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کاروباری آسانیوں کو بڑھانے جیسے اہم امور پر بھی روشنی ڈالی۔
ہائی کمشنر نے وزیرِ خزانہ اور ان کی ٹیم کو مشکل معاشی اصلاحات میں پیش رفت، چودہ سال بعد پرائمری سرپلس کے حصول، اور مالی نظم و ضبط میں بہتری پر مبارکباد دی۔ انہوں نے حکومت کے اصلاحاتی عزم کو سراہتے ہوئے طویل المدتی ترقی کی سمت کو واضح اور مؤثر قرار دیا۔
محترمہ جین میریٹ نے کاروباری برادری، خصوصاً کراچی کے سرمایہ کاروں کی جانب سے مثبت تاثرات کا ذکر کیا، جو حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے اصلاحات کے تسلسل، ٹیکس دہندگان کے ساتھ سماجی معاہدے کی مضبوطی، ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی اور غیر ملکی ماہرین کے لیے سہولت کاری پر زور دیا۔
ہائی کمشنر نے ٹیکس انتظامیہ اور ڈیجیٹلائزیشن میں حکومت کے اقدامات کا خیرمقدم کیا اور برطانیہ کی جانب سے تکنیکی معاونت کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا، خصوصاً آئی ٹی، ماحولیاتی مالیات اور سرکاری مالیاتی نظم و نسق جیسے شعبوں میں۔ انہوں نے ری مِٹ (REMIT) پروگرام کے تحت تعاون بڑھانے اور جاری منصوبوں پر بروقت پیش رفت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
دونوں فریقین نے اقتصادی اصلاحات، ماحولیاتی اقدامات، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی اور پائیدار معیشت کے فروغ کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
