لاہور: آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ معیشت اور کاروبار کی ترقی کیلئے سیاسی استحکام نا گزیر ہے ،سیاسی افرا تفری اور انتشار کی فضاء سے ملکی اور غیر سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے ،حکومت ،اپوزیشن سے اپیل ہے میثاق معیشت کے لئے پیشرفت کریں ، غیر ملکی قرضے اتارنے کے لئے قومی پالیسی نا گزیر ہے ۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کی بقاء کیلئے اتحاد اور معیشت کامضبوط ہونا بے حد ضروری ہے جس کیلئے سب کو اپنے سیاسی اور ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈالنا ہوگا ۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید ضرور کریں لیکن مایوسی نہ پھیلائی جائے اس سے نہ صرف غیر ملکی بلکہ ملکی سرمایہ کا ری بھی متاثر ہو رہی ہے ۔پاکستان سیاسی عدم استحکام کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا ، دھرنوں اور احتجاج کی سیاست نے ملک کا بڑا نقصان کیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ عام عوام سمیت تمام شعبوںکے ٹیکس دہندگان کو ٹیکسیشن پالیسی کی مشاورت میں شامل کیا جائے اور ان کی تجاویز کو نظر انداز کرنے کی بجائے زیر غور لایا جائے ۔ پہلے سے ٹیکس کی ادائیگی کرنے والوں کو گھیرے میں لینے کی بجائے ٹیکسز کی شرح میں کمی اور وصولی کیلئے پیچیدگیوں کو ختم کر کے اسے سہل بنانے سے ٹیکس کا دائرہ کا ربڑھایا جا سکتا ہے ۔پاکستان قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے لیکن ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اس سنجیدگی سے اقدامات نہیں اٹھائے جارہے جن کی ضرورت ہے ، مطالبہ ہے کہ قرضے اتارنے کے لئے پارلیمنٹ کے ذریعے قومی پالیسی بنائی جائے ۔
معیشت اور کاروبار کی ترقی کیلئے سیاسی استحکام نا گزیر ہے’ اشرف بھٹی, حکومت ،اپوزیشن میثاق معیشت کے لئے پیشرفت کرے ‘صدرآل پاکستان انجمن تاجران
لاہور: آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ معیشت اور کاروبار کی ترقی کیلئے سیاسی استحکام نا گزیر ہے ،سیاسی افرا تفری اور انتشار کی فضاء سے ملکی اور غیر سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے ،حکومت ،اپوزیشن سے اپیل ہے میثاق معیشت کے لئے پیشرفت کریں ، غیر ملکی قرضے اتارنے کے لئے قومی پالیسی نا گزیر ہے ۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کی بقاء کیلئے اتحاد اور معیشت کامضبوط ہونا بے حد ضروری ہے جس کیلئے سب کو اپنے سیاسی اور ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈالنا ہوگا ۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید ضرور کریں لیکن مایوسی نہ پھیلائی جائے اس سے نہ صرف غیر ملکی بلکہ ملکی سرمایہ کا ری بھی متاثر ہو رہی ہے ۔پاکستان سیاسی عدم استحکام کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا ، دھرنوں اور احتجاج کی سیاست نے ملک کا بڑا نقصان کیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ عام عوام سمیت تمام شعبوںکے ٹیکس دہندگان کو ٹیکسیشن پالیسی کی مشاورت میں شامل کیا جائے اور ان کی تجاویز کو نظر انداز کرنے کی بجائے زیر غور لایا جائے ۔ پہلے سے ٹیکس کی ادائیگی کرنے والوں کو گھیرے میں لینے کی بجائے ٹیکسز کی شرح میں کمی اور وصولی کیلئے پیچیدگیوں کو ختم کر کے اسے سہل بنانے سے ٹیکس کا دائرہ کا ربڑھایا جا سکتا ہے ۔پاکستان قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے لیکن ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اس سنجیدگی سے اقدامات نہیں اٹھائے جارہے جن کی ضرورت ہے ، مطالبہ ہے کہ قرضے اتارنے کے لئے پارلیمنٹ کے ذریعے قومی پالیسی بنائی جائے ۔