36 C
Islamabad

پاکستان تحریک انصاف کے سہیل آفریدی صوبہ خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب

اپوزیشن جماعتوں کا انتخابی عمل سے واک آﺅٹ، سپیکر نے علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ منظور ہونے کی رولنگ دی جس کت بعد انتخابی عمل شروع ہوا۔ سہیل آفریدی نے 90 ووٹ خاصل کیے

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے نامزد کردہ سہیل آفریدی صوبہ خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔ نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس سپیکر بابرسلیم سواتی کی صدارت میں ہوا۔ اپوزیشن اراکین نے اجلاس سے واک آﺅٹ کیا جبکہ سپیکر نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور کرنے کی رولنگ دی جس کے بعد ایوان میں موجود اراکین نے محمد سہیل ا?فریدی کو وزیر اعلیٰ منتخب کرلیا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے 4امیدوار پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا لطف الرحمان، مسلم لیگ (ن) کے سردار شاہجہان یوسف اور پیپلز پارٹی کے ارباب زرک کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے تھے۔
وزیراعلی کے انتخاب کے لیے اسمبلی کا اجلاس سپیکر بابرسلیم سواتی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر علی امین گنڈاپور نے چیئرمین پی ٹی آئی کی تصویر اٹھاکر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیا۔ اسمبلی ہال کا دروازہ بند ہونے پر پی ٹی آئی کارکنوں نے شدید دروازہ پیٹنا شروع کردیا، دروازے پر متعین سیکیورٹی اہلکاروں سے پی ٹی آئی کارکنوں کی جھڑپ کے بعد ان کو اندر داخل ہونے دیا گیا، تحریک انصاف کے ورکرز کی بڑی تعداد اسمبلی پہنچ گئی۔ پابندی کے باوجود ارکان اسمبلی کے ساتھ آئے پی ٹی آئی ورکرز اسمبلی ہال پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور اسمبلی ہال میں نعرے بازی کی۔

پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر امجد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل تحریک لبیک کے کارکنوں کے ساتھ جو سلوک ہوا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اس کے بعد تحریک لبیک کے شہید کارکنوں کے لئے اجتماعی دعا کی گئی۔

سپیکر بابر سلیم سواتی نے رولنگ دی کہ قائد ایوان کے انتخاب پر رولنگ دیتا ہوں کہ جو طریقہ کار اپنایا ہے وہ بلکل آئین کے مطابق ہے۔ آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 8 کے تحت علی امین کے استعفی دے چکے ہیں۔ اس رولنگ کے تحت علی امین گنڈاپور اپنا استعفی 8 اکتوبر کو دے چکے ہیں، علی امین گنڈاپور کا استعفی ان کی وفاداری کا اظہار ہے، 11 اکتوبر کو علی امین نے اسپیکر کو اپنے استعفی کے حوالے تحریری طور پر آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر نے 11 اکتوبر کو علی امین گنڈاپور کا استعفی موصول ہونے کی تصدیق کی۔ آج انہوں نے فلور آف دی ہاﺅس بھی باضابطہ اعلان کیا ہے کہ انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ میں بحیثیت اسپیکر سمجتا ہوں کہ علی امین گنڈاپور اپنے منصب سے مستعفی ہوچکے ہیں، وزیراعلی صوبے کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے، آئین میں وزیراعلی کے استعفی کی منظوری کی کوئی شرط نہیں۔ وزیراعلی کا انتخاب میری آئینی ذمہ داری ہے، میں علی امین گنڈاپور کے استعفی اور نئے قائد ایوان کے انتخاب کو آئین و قانون کے مطابق قرار دیتا ہوں۔

اس رولنگ کے بعد نئے وزیر اعلی کے انتخاب کا عمل شروع ہوگیا۔ طریق کار کے مطابق جو اراکین ایوان میں موجود نہیں تھے ان کی حاضری یقینی بنانے کے کئے پانچ منٹ کے لئے گھنٹیاں بجائی گئیں۔ حکومتی اراکین سہیل آفریدی کے لئے مختص لابی نمبر ایک میں جمع ہونا شروع ہوگئے، انتخابی نتائج تک اراکین ایوان لابیز میں رہے۔

ووٹنگ اور گنتی کا عمل مکمل ہونے پر اعلان کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر نئے قائد ایوان منتخب ہوگئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن آصف محسود بیرون ملک ہونے کی وجہ سے انتخابی عمل میں حصہ نہ لے سکے۔ پی ٹی آئی کے نامزد وزیراعلٰی کو 90 ووٹ پڑے جب کہ اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باعث اپوزیشن امیدواروں کو ووٹ نہیں ملے۔ سپیکر نے کہا کہ تمام جماعتوں نے وزیراعلی کے انتخاب میں حصہ کیا۔ اسپیکر نے کہا کہ سہیل آفریدی نے مطلوبہ تعداد سے زیادہ ووٹ لیے، وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے طور پر سہیل آفریدی کا انتخاب سارے صوبے کے لئے ہے۔ جو محنت کرے گا، ملک سے محبت کرے گا وہ کامیاب ہوگا، یہ صوبے کی تاریخ ہے جو بھی کوشش کرے گا آئینی حق اسکا ہوگا۔

اراکین اسمبلی نے نومنتخب وزیر اعلیٰ کو گلے لگا کر مبارکباد دی۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین