26.7 C
Islamabad

آبپارہ مارکیٹ اسلام آباد میں بنگالی پراپرٹی زبردستی خالی کروانے پر تاجروں کا احتجاج

 بنگالی پراپرٹی کے کرایہ داروں کو بے دخل کرنا زیادتی ہے ،غیر قانونی بے دخلی نہیں ہونے دیں گے، اجمل بلوچ، اخترعباسی، خالد چوہدری

اسلام آباد: آبپارہ مارکیٹ میں بنگالی پراپرٹی زبردستی خالی کروانے کے خلاف تاجروں نے احتجاج کیا۔ تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ۔ جنرل سیکرٹری آب پارہ مارکیٹ اختر عباسی اور سیکرٹری ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد خالد چوہدری نے کہا کہ آب پارہ مارکیٹ میں بنگالی ملکیت کی دکانیں خالی کرانے کے لئے کیبنٹ ڈویژن کے اہل کاروں نے غلط طریقہ اپنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں قانون کرایہ داری موجود ہے جسے پارلیمنٹ نے پاس کیا ہوا ہے کرایہ داروں سے دکانیں خالی کرانے کا اسلام آباد میں قانونی طریقہ موجود ہے آب پارہ میں نو دکانیں بنگالی پراپرٹی ہیں ان کے 1971 سے کرایہ دار ہیں۔ قانون کے مطابق وہ ہر سال دس فی صد کرایہ بڑھا کر ادا کرتے ہیں۔ اور انہوں نے کرایہ دسمبر 2025 تک ادا کیا ہوا ہے کیبنٹ ڈویژن کا عملہ سول جج سے کیس خارج کروا کر فوری طور پر دکانیں خالی کرانے آپہنچا حالانکہ کورٹ کے آرڈر دوکانیں خالی کرنے کے ہیں ہی نہیں۔ سول کورٹ نے صرف یہ کہا ہے کہ یہ کیس اس کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ جس پر کرایہ دار تاجروں نے ایڈیشنل سیشن جج کے پاس اپیل دائر کردی۔

اجمل بلوچ نے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد نے بنگالی پراپرٹی کے کرایہ داروں کی اپیل منظور کر کے ہر دو فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ اجمل بلوچ کا کہنا تھا کہ قانون بنانے والے قانون کی پاسداری کریں اور قانون کا احترام کریں اور کرایہ داروں کو ملک کی عدالتوں میں رسائی حاصل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ وزیراعظم اور کیبنٹ بنگالی پراپرٹی پر بیٹھے کرایہ داروں کا مسئلہ حل کرنے کے احکامات جاری کریں۔ظلم کی انتہا ہے کہ کہ کیبنٹ ڈویژن نے کرایہ داروں سے دسمبر 2025 تک کا کرایہ وصول کر رکھا ہے مگر پراپرٹی خالی کرائی جا رہی ہے۔

آخر میں اجمل بلوچ نے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو غیر قانونی طریقے سے بے دخل نہیں کرنے دیں گے۔ کوئی قانون سے بالا تر نہیں۔ قانون اپیل کا حق دیتا ہے۔ بنگالی پراپرٹی کے دکان داروں کو کسی صورت بے دخل نہیں ہونے دیں گے۔ زبردستی کی صورت میں اسلام آباد کا شٹر ڈاﺅن کر دیں گے۔

میں بنگالی پراپرٹی زبردستی خالی کروانے پر تاجروں کا احتجاج بنگالی پراپرٹی کے کرایہ داروں کو بے دخل کرنا زیادتی ہے ،غیر قانونی بے دخلی نہیں ہونے دیں گے، اجمل بلوچ، اخترعباسی، خالد چوہدری

c: آبپارہ مارکیٹ میں بنگالی پراپرٹی زبردستی خالی کروانے کے خلاف تاجروں نے احتجاج کیا۔ تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ۔ جنرل سیکرٹری آب پارہ مارکیٹ اختر عباسی اور سیکرٹری ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد خالد چوہدری نے کہا کہ آب پارہ مارکیٹ میں بنگالی ملکیت کی دکانیں خالی کرانے کے لئے کیبنٹ ڈویژن کے اہل کاروں نے غلط طریقہ اپنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں قانون کرایہ داری موجود ہے جسے پارلیمنٹ نے پاس کیا ہوا ہے کرایہ داروں سے دکانیں خالی کرانے کا اسلام آباد میں قانونی طریقہ موجود ہے آب پارہ میں نو دکانیں بنگالی پراپرٹی ہیں ان کے 1971 سے کرایہ دار ہیں۔ قانون کے مطابق وہ ہر سال دس فی صد کرایہ بڑھا کر ادا کرتے ہیں۔ اور انہوں نے کرایہ دسمبر 2025 تک ادا کیا ہوا ہے کیبنٹ ڈویژن کا عملہ سول جج سے کیس خارج کروا کر فوری طور پر دکانیں خالی کرانے آپہنچا حالانکہ کورٹ کے آرڈر دوکانیں خالی کرنے کے ہیں ہی نہیں۔ سول کورٹ نے صرف یہ کہا ہے کہ یہ کیس اس کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ جس پر کرایہ دار تاجروں نے ایڈیشنل سیشن جج کے پاس اپیل دائر کردی۔

اجمل بلوچ نے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد نے بنگالی پراپرٹی کے کرایہ داروں کی اپیل منظور کر کے ہر دو فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ اجمل بلوچ کا کہنا تھا کہ قانون بنانے والے قانون کی پاسداری کریں اور قانون کا احترام کریں اور کرایہ داروں کو ملک کی عدالتوں میں رسائی حاصل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ وزیراعظم اور کیبنٹ بنگالی پراپرٹی پر بیٹھے کرایہ داروں کا مسئلہ حل کرنے کے احکامات جاری کریں۔ظلم کی انتہا ہے کہ کہ کیبنٹ ڈویژن نے کرایہ داروں سے دسمبر 2025 تک کا کرایہ وصول کر رکھا ہے مگر پراپرٹی خالی کرائی جا رہی ہے۔

آخر میں اجمل بلوچ نے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو غیر قانونی طریقے سے بے دخل نہیں کرنے دیں گے۔ کوئی قانون سے بالا تر نہیں۔ قانون اپیل کا حق دیتا ہے۔ بنگالی پراپرٹی کے دکان داروں کو کسی صورت بے دخل نہیں ہونے دیں گے۔ زبردستی کی صورت میں اسلام آباد کا شٹر ڈاﺅن کر دیں گے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین