وزیراعظم کی پاسکو کو چار لاکھ میٹرک ٹن اضافی گندم کی خریداری کی ہدایت
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گندم پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت فندم کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے اور حکومت بڑی مقدار میں گندم خریدے گی، وزیراعظم کی پاسکو کو چار لاکھ میٹرک
ٹن اضافی گندم کی خریداری کی ہدایت کی ہے۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گندم پالیسی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس ہوا۔ جس میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلی کے نمائندے، جموں و کشمیر کے وزیراعظم اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی معیشت ہے اور گندم کی فصل کلیدی اہمیت کی حامل ہے، یہ نہ صرف پاکستان کے لوگوں کی بنیادی خوراک ہے بلکہ ملک کے کسانوں کے لیے آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔ حکومت کسانوں کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے، کسانوں کی فلاح و بہتری کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں، کسان پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پالیسی کیلئے وفاقی حکومت نے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول صوبائی حکومتوں، کسان تنظیموں، صنعتکاروں اور کاشتکار برادری کے ساتھ ایک تفصیلی مشاورتی عمل کیا، جس کی بنیاد پر، حکومت نئی قومی گندم پالیسی 2025ـ26 کا اعلان کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پالیسی کا مقصد عوامی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے کسانوں کے منافع کو یقینی بنانا ہے۔ یہ پالیسی زرعی ترقی کو فروغ دے گی، پالیسی سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، یہ پالیسی پاکستانی عوام کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اجلاس کے شرکا کو پالیسی کے نمایاں خدوخال سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں 2025ـ26 کی گندم کی فصل سے تقریباً 6.2 ملین ٹن کے اسٹریٹجک ذخائر حاصل کریں گی اور خریداری 3,500 روپے فی من، گندم کی بین الاقوامی درآمدی قیمت کے مطابق کی جائے گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ اقدام مارکیٹ کی مسابقت کو برقرار رکھتے ہوئے کسانوں کو منصفانہ قیمت و منافع کو یقینی بنائے گا، پالیسی کے تحت پاکستان بھر میں گندم کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اس کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ گندم کی نگرانی کی ایک قومی کمیٹی کی صدارت کریں گے، کمیٹی میں تمام صوبوں کے نمائندے شامل ہوں گے جبکہ یہ کمیٹی پالیسی اقدامات پر عمل درآمد اور ہم آہنگی کی نگرانی کرے گی۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کمیٹی ہفتہ وار اجلاس کرے گی اور براہ راست وزیراعظم کو رپورٹ کرے گی، کسانوں کو گندم کی مناسب قیمت دی جائے گی اور حکومت مستحکم ذخائر اور کسانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کافی اسٹاک خریدے گی۔
