اسلام آباد: بھارت کی جانب سے ریاست جونا گڑھ کو زبردستی ضم کیے 78 برس بیت گئے، 1947میں کئی خودمختار ریاستیں بھارت کے غاصبانہ قبضےکا شکار ہوئیں۔
تفصیلات کے مطابق ریاست جونا گڑھ کا پاکستان سے الحاق، جونا گڑھ سٹیٹ کونسل کی منظوری سے ہوا تھا، بھارتی سیاستدان سردار ولبھ بھائی پٹیل نے نواب آف جونا گڑھ سے اپنا فیصلہ بدلنےکا اصرار کیا مگر بھارت کو منہ کی کھانی پڑی، بھارت کو جونا گڑھ کا پاکستان سے الحاق برداشت نہیں ہوا اور جونا گڑھ پر زبردستی غیر قانونی تسلط قائم کیا۔
بھارتی فوجیوں نے جونا گڑھ میں بڑے پیمانہ پر قتلِ عام، عصمت دری اور مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا،بھارت نے سیاسی ناکامی کے باعث ہتھیاروں اور قاتلانہ نظام کی پاداش میں نام نہاد ریفرنڈم بھی کروا ڈالا۔جونا گڑھ پر قبضہ ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان نے تقریباََ تمام شاہی ریاستوں پرجابرانہ تسلط حاصل کیا تھا۔
آج بھی ہندو انتہا پسندوں کا قبضہ پورے بھارت کو نفرت کی آگ میں لپیٹ چکا ہے۔بھارت کی جابرانہ حکومت اور سفاکانہ سرپرستی میں اقلیتوں پرمظالم کی 78سالہ شرمناک تاریخ کا سلسلہ آج بھی جاری وساری ہے۔
