28.1 C
Islamabad

پاکستان انجینئرنگ کونسل اور نیشنل پروڈیکٹیوٹی آرگنائزیشن کی جانب سے دو روزہ آئی ایس او 56000 انوویشن ورکشاپ کا انعقاد

اسلام آباد: پاکستان انجینئرنگ کونسل نے نیشنل پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن کے اشتراک سے اختراعی صلاحیتوں کے فروغ آئی ایس اور 56000 انوویشن مینجمنٹ سسٹم اینڈ اسٹینڈرڈز کے عنوان سے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ پاکستان انجینئرنگ کونسل ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ ورکشاپ بین الاقوامی ماہرین ڈاکٹر ایوا ڈائیڈرکس اور کلاوس ڈائیڈرکس کی زیرِ نگرانی منعقد ہوئی، جس میں شرکا کو آئی ایس او56000 کے عالمی معیار کے تحت انوویشن مینجمنٹ سسٹم کے قیام اور عمل درآمد کے بہترین طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا۔

تربیتی سیشنز میں گورننس، پورٹ فولیو و پائپ لائن مینجمنٹ، آئیڈیاز ورک فلو، میٹرکس، اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن و انڈسٹری 4.0 کے ساتھ انضمام جیسے موضوعات شامل تھے۔ شرکا کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے پی ای سی نے تربیتی فیس فی کس20 ہزار روپے کو سبسڈائز کر کے پی ای سی سے رجسٹرڈ انجینئرز کے لیے یہ تربیت مفت فراہم کی۔ مختصر نوٹس کے باوجود ورکشاپ میں صنعت، تعلیمی اداروں اور سرکاری شعبے کے درجنوں مڈ کیرئر پروفیشنلز نے بھرپور شرکت کی۔ ورکشاپ مکمل ہونے پر شرکاء کو مشترکہ پی ای سی این پی او سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔

چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر نے شرکا میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے انجینئرنگ اور صنعتی شعبوں میں مسابقت بڑھانے کے لیے انوویشن کلچر کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ای سی عالمی معیار کے مطابق مقامی طریقہ کار کو ہم آہنگ کرنے اور انجینئرنگ ایکسی لینس کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

چیئرمین نے مزید کہا کہ این پی او اور بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ ایسی شراکتیں پاکستان کے انجینئرنگ ایکو سسٹم میں انوویشن کے نظریاتی و عملی پہلوں کے درمیان موجود خلا کو پر کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ پی ای سی کے ترجمان کے مطابق یہ اشتراک آئی ایس او 56000 کے اصولوں کو پاکستانی اداروں کے لیے قابلِ عمل اور نتیجہ خیز انداز میں ڈھالتا ہے۔ انہوں نے اس اقدام میں این پی او اور اے پی او کے ٹیکنیکل ایکسپرٹ سروسز کے تعاون کو بھی سراہا۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین