اسلام آباد(ویب ڈیسک ) سینٹ اجلاس ،پی ٹی آئی سینٹرزکاعدالت،حکومت کاشکریہ،حکومت کوقانون سازی میں ووٹ بھی دے ڈالا۔حکومتی ارکان نے بھی پی ٹی آئی سینیٹرز کوبانی کوالشفا ہسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پرمبارکباددی، حکومتی واپوزیشن کے کل 12ارکان ایوان میں موجودتھے جب بل پاس ہوئے، سینیٹر سرمدعلی نے کورم کی نشاندہی کرکے تیسرابل پاس ہونے سے رکوایا۔تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ کا اجلاس منگل کے روزہوا تو اس کی صدارت سینیٹرمنظوراحمد کاکڑ نے بطورپریذائیڈنگ افسرکی،اجلاس شروع ہواتو سینیٹر شہادت اعوان نے وقفہ سوالات کو موخرکرنے کی تحریک پیش کی،بتایاگیاکہ سوالات وجوابات کے کتابچے نہ چھپ سکنے کی وجہ سے وقفہ سوالات کو موخرکیاجاتاہے،تحریک منظورہونے کے بعد جے یوآئی کے سینیٹرمولاناعطاء الرحمان نے وفاقی بجٹ میں سابقہ فاٹا اور پاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے ٹیکسوں سے استثنی واپس لینے کے معاملے پر توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے کہاان اضلاع کے لیے سو ارب روپے کا وعدہ کیا تھا جو نہیں ملا ہے ،فاٹا کے عوام سے پوچھے بغیر فاٹا اضلاع کو خیبرپختونخواہ میں ضم کردیا گیا ،خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد ان اضلاع کی مشکلات اور بڑھ گئی ہیں ،ان اضلاع میں دہشتگردی ہے ، اس دہشتگردی کے پیچھے کون ہے ؟ وزیرمملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے جواب دیتے ہوئے کہا فاٹا پاٹا کے ٹیکس سے استثنی کی سہولت کو لوگوں نے مس یو زبھی کیا ،پچھلے سال کافی مشاورت کے بعد سیلز ٹیکس لگایا گیا،ایوان میں دونوں جانب سے اس اقدام کو سراہا گیا تھاقانون نافذ کرنیوالے ادارے جو فاٹا پاٹا میں قربانیاں دیتے ہیں وہ بھی قابل قدر ہیں،حکومت فاٹا پاٹا کے ساتھیوں سے مشاورت کیلئے آج بھی حاضر ہے اس میں متعلقہ ادارے بھی شامل ہوں گے بلوچستان کے معاملے میں بھی یہی پالیسی ہے سب سٹیک ہولڈرز کو سن کر فیصلہ کریں گے،وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امورراناثناء اللہ نے کہا اس معاملے میں جو کمیٹی تھی اس میں فاٹا پاٹا کے لوگ بھی شامل تھے،خیبرپختونخواہ چیمبرآف کامرس بھی مشاورت میں شامل تھا،اس معاملے میں دیگر چیمبرز نے سختی سے مخالفت کی تھی،ٹیکس سے استثنی کے معاملے پر دیگر چیمبرز کہتے تھے ہم تو کاروبار ہی نہیں کرسکتے،بزنس مین کلاس کے اندر ٹیکس سے استثنی کے معاملے پر بڑی بے چینی پائی جاتی تھی،اس کے بعد ان کا ٹیکس استثنی ختم کیاگیا ،سینٹر مولانا عبدالواسع نے کہا بلوچستان میں جہاں پہلے ٹیکس نہیں وہاں بھی لگایا گیا ہے،بلوچستان یا فاٹا پاٹا کے لوگوں کو جو سہولیات مہیاتھیں وہ بھی واپس لے لی گئی ہیں،بلوچستان کے مسائل کا حل یہ ہے کہ بارڈروں کو محفوظ کرلیں،بلوچستان کے عوام کو جو انگریز دور میں مراعات حاصل تھیں وہ بھی واپس لے لی گئی ہیں،ہنا اوڑک اور زیارت میں کوئی سہولتکار نہیں تو پھر یہ دہشتگرد وہاں کیسے پہنچے،سوراب میں بمباری ہوئی تو اس میں خواتین اور بچے شہیدہوئے،ہنہ اوڑک میں لوگوں کو وہاں سے ہٹا کر سروے شروع کرڈیا گیا ہے،بلوچستان میں زمینوں کو دھڑا دھڑ الاٹ کیا جارہا ہے،یہ وہ زمینیں ہیں جو معدنی دولت سے مالا مال ہیں،وفاقی وزیرطارق فضل چوہدری نے کہا بلوچستان کے مسئلے پر سینیٹرز کسی بھی جماعت سے ہوں وہ اپنا موقف دیں،لیکن حل بھی تجویز کریں،بلوچستان میں آپریشن کا کسی کو شوق نہیں ہے،بلوچستان میں روزانہ شہادتیں ہورہی ہیں،پولیس اورقانون نافذ کرنیوالے ادارے وہاں پر بہادری کی داستانیں رقم کررہے ہیں بی ایل اے اور دہشتگردوں کو بھارت وسائل مہیا کررہا ہے،پی ٹی آئی سینیٹراعظم سواتی نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کمیٹی رپورٹس ایوان میں پیش کی جا رہی ہیں،ایوان کو بتایا جانا چاہیئے کہ ان رپورٹس میں کیا ہے،سینیٹر اعظم سواتی نے مزید کہا سپریم کورٹ سے اچھی خبرآرہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے،ہم اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہیں بانی چیئرمین کو علاج کے لئے شفاء انٹرنیشنل لایا جا رہا ہے،یہ انتہائی خوش آئند ہے ،ہم حکومت کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں،ہمیں مل جل کر معاملات کو حل کرنا چاہیے،تحریک انصاف کے ہی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں،امید کرتے ہیں اس فیصلے پر عملدرآمد کرایا جائے گا،یہ کوئی فیور نہیں ہے، یہ ایک قیدی کا حق تھا ،یہ خوش آئند فیصلہ ہے، ہم سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں ،اب اس پر عملدرآمد کرنا انتظامیہ کا کام ہے ،ہمارے دیگر اسیر رہنماوٴں کو بھی ریلیف ملنا چاہئے،پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرمحسن عزیز نے کہا روزانہ ہماری سڑکیں بند ہوتی ہیں معیشت تباہ ہو چکی،10 روز سے ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال رہی ہے ،ابھی بھی وہ ہڑتال ختم نہیں ہوئی ہے ،خام مال کی ترسیل رک جاتی ہے انڈسٹری تباہ ہو رہی ہے،یہاں کرکٹ ٹیم آتی ہے سارے روڈز بند ہو جاتے ہیں ،غیر ملکی وفود کی آمد کے باعث موٹرویز اور جی ٹی روڈز بند ہو جاتے ہیں،ایران کی سڑکیں کھلی ہیں مگر ہماری بند کی جاتی ہیں،پی ٹی ائی والے اڈیالہ جاتے ہیں روڈز بند ہو جاتے ہیں ،دنیا میں ایک ملک بتائیں جہاں روزانہ پیٹرول کی قیمت کا تعین ہوتا ،انڈسٹری کو تباہ نہ کریں اس طرح ملک نہیں چل سکتا،وفاقی وزیربرائے پارلیمانی امورطارق فضل چوہدری نے کہا سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے فیصلہ دیا ہے ہم اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں،آج پی ٹی آئی کے سینیٹرز کی جانب سے عدالت کی تعریف بھی کی گئی ہے،ہم یہی کہتے تھے بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کا فیصلہ عدالتوں سے ہی ہونا ہے،وزیراعظم کے پاس کوئی ایسا اختیار نہیں کہ وہ خود جیلوں سے لوگوں کو رہا کروائیں،سپریم کورٹ کے فیصلے پر من وعن عمل کیا جائے گا،عدلیہ اگر فیصلہ آپ کے حق میں دے تو پھر ٹھیک ہے اگر نا دے تو یہ تنقید کرتے ہیں،عدالتیں ہی اصل راستہ ہیں پی ٹی آئی کے لوگ عدالتوں میں جائیں،طارق فضل چوہدری نے مزید کہا انہوں نے 27ستمبر کو پھر ایک احتجاج کا اعلان کررکھا ہے،احتجاج ان کا حق ہے لیکن ان کا پرامن احتجاج بعد میں پرتشدد ہوجاتا ہے،یہ معاملات سڑکوں پر حل نہیں ہوں گے،تشدد کا راستہ آپ کو کسی طرف نہیں لے کر جائے گاسپریم کورٹ کے فیصلے نے ملک میں عدلیہ کی آزادی ثابت کر دی ہے، مسلم لیگ ن کی قیادت نے بھی عدالتوں سے ریلیف حاصل کیا، فیصلہ ان کے خلاف آئے تو یہ عدلیہ کیخلاف مہم شروع کردیتے ہیں عدلیہ کے خلاف توہین آمیز گفتگو اور نفرت انگیز مہم کی شدید مذمت کرتے ہیں،ٹرانسپورٹرز کے احتجاج کے بعد کامیاب مذاکرات ہوئے، راستے کھول دیے گئے، تشدد اور انتشار کی سیاست کسی صورت بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے،بلوچستان کے سینیٹرز ایوان میں تنقید کے بجائے تعمیری تجاویز اور رائے پیش کریں،بلوچستان میں متحرک بی ایل اے دراصل دشمن ملک کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہی ہے،ملکی سرزمین سے ایک ایک دہشت گرد کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،تحریک انصاف کے سینیٹرعون عباس بپی نے تقریرکرتے ہوئے کہا عمران خان سے متعلق ڈاکٹروں نے جو رپورٹ پیش کی وہ تشویشناک تھی،وہ ہمارے لئے والد کی طرح ہیں ان کی بیماری کا سن کر ہمارے اوپر جو گزری ہم جانتے ہیں،عمران خان کو پچھلے 9ماہ سے قیدتنہائی میں رکھاجارہاہے، میں نے بارہ تیرہ دن قیدتنہائی میں گزارے ہیں مجھے علم ہے یہ کتنامشکل کام ہے لیکن عمران خان کو اتنے دنوں بعد بھی توڑ نہیں سکے،پی ٹی آئی کے سینیٹر ڈاکٹرہمایوں مہمند نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے میں پی ٹی آئی ورکرزسے درخواست کروں گا کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے حکومت کو عدالتی فیصلے کو سبوتاژ کرنے میں مددملے،وہ ایک ہسپتال ہے کارکنان ہسپتال کے باہر جمع نہ ہوں،پہلے بھی یہ ہمارے اوپر الزامات لگاتے رہے ہیں ایسانہ ہوکوئی اورالزام لگادیں،اراکین کی تقاریرختم ہوئیں تو حکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر سے اراکین اٹھ کرایوان سے جاتے رہے اورایوان میں دونوں جانب سے 12سینیٹرزبیٹھے ہوئے تھے، پھرپریذائیڈنگ آفیسرمنظورکاکڑ نے ایجنڈے پر کارروائی شروع کی،ایوان نے معیاروقت آرڈیننس 1943میں مزید ترمیم کا بل 2026، اور سول سرونٹس ایکٹ 1973میں ترمیم کا بل منظورکرلیا،ایوان میں موجود پی ٹی آئی سینیٹرزنے پہلے بل کی مخالفت نہیں کی جبکہ دوسرے بل میں تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز نے بل کے حق میں ووٹ دیا،جبکہ تیسرابل قومی ادارہ برائے لوک وروایتی ورثہ (لوک ورثہ )آرڈیننس 2002میں مزید ترمیم کا بل منظوری کیلئے پیش کیاگیاتو سینیٹرسرمد علی ایوان میں آگئے انہوں نے کورم کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا اتنی کم تعدادمیں اراکین موجود ہیں اور آپ بل پاس کئے جارہے ہیں،کورم کی نشاندہی کے باوجود پریذائیڈنگ افسرنے بل پر رائے شماری کا حکم دیا تو سینیٹر سرمد علی پھر بول پڑے کہ کورم ہی پورانہیں تو بل کیسے پاس ہوسکتاہے،جس پر ایوان میں گنتی کروائی گئی اورکورم پورا نہ ہونے پر ایوان کی کارروائی جمعرات کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردی گئی۔



























