بانی پی ٹی آئی کی الشفا منتقلی کاحکم وفاقی حکومت نے چیلنج کردیا

  • اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)وفاقی حکومت نےبانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم پر نظرثانی درخواست دائر کر دی۔

درخواست چیف کمشنر اسلام آبادکی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آبادکے ذریعے دائر کی گئی۔

درخواست میں مؤقف:

چیف کمشنر نے استدعا کی کہ عدالتی حکم واپس لیا جائے اور نظرثانی کی اجازت دی جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 18 اگست کا عبوری حکم اختیارِ سماعت سے تجاوزکرتا ہے اور اس کے ذریعے قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کے مقررہ قانونی طریقہ کارکو نظرانداز کیا گیا۔

چیف کمشنر نے سپریم کورٹ رولز 2025کے تحت نظرثانی درخواست دائر کرنے کی اجازت بھی طلب کی ہے۔

کیس کا پس منظر:

درخواست کے مطابق 5 اگست 2023کو بانی پی ٹی آئی کو ایڈیشنل سیشن جج نے 3 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔

دورانِ مقدمہ بانی پی ٹی آئی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561-Aکے تحت علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی۔ تاہم اسلام آباد ہائی کور نے 12 مارچ 2026 کو درخواست مسترد کر دی جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔

قانونی نکات:

درخواست میں پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کا باقاعدہ قانونی طریقہ کارموجود ہے۔

اہم نکات:

1. دوسرے اسٹیشن کے ہسپتال منتقلی کے لیے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کی پیشگی منظوری ضروری ہے
2. منتقلی کی صورت میں حکومت کو فوری رپورٹ دینا لازم ہے
3. جیل سے باہر ہسپتال میں داخل قیدی کی سکیورٹی پولیس کے ذمے اور علاج کے اخراجات محکمہ صحت برداشت کرتا ہے
4. آپریشن کی صورت میں قیدی کو آپریشن کے بعد جلد جیل ہسپتال واپس لانا چاہیے

عدالتی حکم پر اعتراض:

درخواست میں کہا گیا کہ 18 اگست کا حکم چیف کمشنر کے آئینی اور قانونی اختیارات کو براہ راست متاثر کرتا ہے، حالانکہ انہیں مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا تھا۔

مؤقف اختیار کیا گیا کہ *کسی ایسے شخص پر عدالتی حکم کا منفی اثر پڑے تو وہ فریق نہ ہونے کے باوجودحکم کو چیلنج کر سکتا ہے۔ چیف کمشنر کا معاملے میں براہ راست اور قانونی مفاد موجود ہے۔

درخواست کے مطابق معاملہ پہلی مرتبہ سپریم کور ٹ کے سامنے مقرر ہوا اور متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 10-A کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ منصفانہ ٹرائل کے لیے فریقین کو سماعت کا موقع دینا ضروری ہے۔

طبی معاملات پر موقف:
چیف کمشنر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا باقاعدگی سے طبی معائنہ ہوتا رہا ہے اور *میڈیکل بورڈ ان کا علاج کر چکا ہے۔ عدالت نے *منسلک مقدمات کی ایک رپورٹ کی بنیاد پر صحت بگڑنے کا ابتدائی تاثر قائم کیا جبکہ رپورٹ میں صحت مزید خراب ہونے کی واضح نشاندہی نہیں تھی۔

درخواست میں کہا گیا کہ *طبی اور تکنیکی معاملات میں عدالت کو ماہرین کی رائےحاصل کرنی چاہیے تھی۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے عبوری حکم میں *بانی پی ٹی آئی کی 4 استدعائیں مکمل منظورکر لیں جس سے معاملہ عبوری مرحلے پر ہی طے ہو گیا۔

استدعا:

چیف کمشنر نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ:
1. نظرثانی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی جائے
2. 18 اگست کا عبوری حکم واپس لیا جائے
3. اسے قانونی اصولوں کے خلاف قرار دے کر کالعدم کیا جائے

مزیداسی طرح کی
Related

ایران کا بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اجلاس میں شرکت سے روکنے پراحتجاج

ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اجلاس میں...

بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں عالمی سرمایہ کاری 17 سال کی کم ترین سطح پر، بلوم برگ

اسلام آباد(ویب ڈیسک)بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ...

ICCI الیکشن 2026 کی انتخابی مہم اختتام پذیر، محمد کاشف چوہدری کا تاجر برادری سے اتحاد کا مطالبہ

اسلام آباد(سٹی رپورٹر)اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری...

تازہ ترین