اسلام آباد(ویب ڈیسک )جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں بڑی تبدیلی رونما ہو گئی۔عالمی میڈیا ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق بھارت خطے میں نظراندازہو کر رہ گیا ہے جبکہ چین اور پاکستان کی اسٹریٹیجک شراکت داری مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سی پیک اور بڑھتے دفاعی تعاون نے پاکستان کو خطے کی مرکزی معاشی اور عسکری طاقت بنا دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان اور چین کی دن بدن مضبوط ہوتی شراکت داری نے جنوبی ایشیا میں بھارت کے بالادستی کے خواب کو چکنا چورکر دیا ہے۔ چین کی بڑھتی علاقائی موجودگی نے بھارت کے دہائیوں سے قائم اثر و رسوخ کو براہ راست چیلنج کر دیا ہے۔معاشی محاذ پرچین نے پاکستان سے سری لنکا تک بندرگاہوں کی تعمیر کے ذریعے خطے میں اپنا اثر بڑھایا۔سی پیک کے ذریعے مغربی چین کو گوادر بندرگاہ کے راستے براہ راست بحیرہ عرب سے جوڑ دیا گیا۔اسی دوران بنگلہ دیش کا چین سے دریائی منصوبے پر تعاون مانگنا بھارت کے لیےسلی گڑی کوریڈورکے قریب نئی تشویش بن گیا ہے۔دفاعی محاذ پرچین-پاکستان فوجی شراکت داری اب جنگی طیاروں، آبدوزوں، ڈرونز، سیٹلائٹس اور فضائی دفاعی نظام تک پھیل چکی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مئی 2025 کے پاک-بھارت تنازع نے چین-پاکستان فوجی تعاون کی بڑھتی صلاحیت کو دنیا کے سامنے واضح کر دیا۔بھارت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں چینی منصوبوں کا بڑھتا نیٹ ورک مستقبل میں اس کی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کے باعث خطے میں چین مضبوط جبکہ بھارت اسٹریٹیجک طور پر کمزور اور سفارتی سطح پر تنہاہو گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ چین کےساتھ مضبوط شراکت داری اورسی پیک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں مرکزی اسٹریٹیجک اورمعاشی طاقت بنادیاہے۔





























