سپریم کورٹ،جیل سپریٹنڈنٹ کی رپورٹ جمع ،بانی پی ٹی آئی کو واک ،اخبار،ٹی وی کی ضرورت ،فیملی ارکان واہلیہ سے ملاقاتوں کی اجازت زیادہ کثرت سے دی جائے،میڈیکل بورڈ کی سفارش

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)
بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ملاقاتوں کے معاملے پر جیل سپریڈنٹ اڈیالہ نے سپریم کورٹ میں 2 صفحات پرمشتمل رپورٹ جمع کرا دی۔رپورٹ کے مطابق 4 نومبر 2023 سے 10 اگست 2026 تک 39 مختلف طبی ماہرین سے بانی پی ٹی آئی کے چیک اپ کی سمری شامل ہے۔ رپورٹ میں 10 اگست 2026 کو ہونے والی 4 رکنی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی شامل کی گئی۔چاررکنی میڈیکل بورڈمیں HOD آئی ڈیپارٹمنٹ پمز ڈاکٹر ایم عارف خان، ڈاکٹر محمد علی عارف، کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر اختر علی بندیشاہ اور ڈاکٹر محمد فرقاد عالمگیرشامل تھے۔ بورڈ نے سفارش کی کہ بانی پی ٹی آئی کو روزانہ 1 گھنٹہ واک کی ضرورت ہے۔میگزین، اخبار، ٹی وی اور کتابیں پڑھنے کے لیے فراہم کی جائیں۔فیملی ممبران اور اہلیہ سے ملاقاتوں کی اجازت زیادہ کثرت سے دی جائے، جس سے بلڈ پریشر اور اضطراب میں مدد ملے گی ۔رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کابلڈ پریشر 140/80ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ میں کہاگیا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی ہر منگل کو جیل رولز کے تحت باقاعدگی سے ملاقات کرائی جاتی ہے۔ اب تک 84 ملاقاتیں کرائی جا چکی ہیں۔سلمان صفدربھی 10 فروری اور 4 اپریل 2026* کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر چکے ہیں۔میڈیکل افسران دن میں 3 مرتبہ کھانے پینے کی جانچ اور میڈیکل چیک اپ کرتے ہیں۔ متعدد سرکاری معالجین سے چیک اپ کا ریکارڈ موجود ہے۔ماہر امراض چشم سے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا علاج کرایا جاتا رہا ہے اور ایک آنکھ تقریباً نارمل ہو چکی ہے۔سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ توہین عدالت کا کیس چیف جسٹس سرفراز کی سربراہی میں بنچ نمٹا چکا ہے۔ ہائیکورٹ کے فیصلے میں سلمان اکرم راجہ کی یقین دہانی کا حوالہ دیا گیا کہ وہ ملاقات کے بعد جیل احاطے میں میڈیاسے گفتگو نہیں کریں گے۔ عدالتی حکم کے باوجود میڈیا ٹاک کر کے خلاف ورزی کی گئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کا سنگل بنچ پنجاب حکومت بنام شیر افضل کیس میں جیل رولز 265کو خلاف قانون قرار دے چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جیل میں ملاقاتوں کے ذریعے *عدلیہ، فارن پالیسی اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے خلاف عوامی جذبات کو ابھارا گیا۔رپورٹ کے آخر میں استدعا کی گئی کہ *سپریم کورٹ اس مقدمے کو نمٹا دے۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 3 رکنی بنچ کل اس کیس کی سماعت کرے گا۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین