اسلام آباد(ویب ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے خلاف درخواست پردلائل کے لئے 2 دن کی مہلت دینے کی ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی استدعا مسترد کر دی۔ عدالت نے ماضی میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کاریکارڈ کل تک طلب کرلیا۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ "اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی پہلے بھی خلاف ورزی کی جا چکی۔ یہ اسلام آباد ہائیکورٹ ہے اوراسے اسلام آبادکے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے آئینی تحفظ حاصل ہے۔ یہ عدالت کسی کواسلام آبادکے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرنے دے سکتی۔”
اٹارنی جنرل پاکستان عثمان منصور اعوان نے دلائل دیے کہ "کسی بھی افسرکوایسے آرڈر پر عمل نہیں کرنا چاہیے جو آئین اور قانون کے مطابق نہ ہو۔ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے آرڈر پر عملدرآمد نہ کرنا کسی بھی افسر کے لئے مشکل ہو گا۔ اگر عدالت ہدایات جاری کر دے تو سول سرونٹس کے لئے ان پر عمل کرانا آسان ہو گا۔”
سماعت کا احوال:
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر، جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس محمد آصف نے شہری وقاص احمد کی درخواست پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل پاکستان، چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرل، آئی جیز اور دیگر افسران عدالتی احکامات پر پیش ہوئے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ مئی 2022 میں سپریم کورٹ کو یقین دہانی کے باوجود عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی۔ 2024 میں اس عدالت کے آرڈر کی بھی خلاف ورزی ہوئی۔ انہوں نے تمام صوبائی آئی جیز اور چیف سیکریٹریز کو اپنے صوبے میں امن و عامہ خراب نہ کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ نومبر 2024 میں بھی اس عدالت نے آرڈرپاس کیاتھا۔اطلاعات ہیں کہ اس بار پہلے کی نسبت زیادہ تیاری سے آرہے ہیں جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بھی شامل ہیں۔مئی 2022 میں 31 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے اور آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کی گئی تھی۔
عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا سے موقف طلب کیا توانہوں نے درخواست کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عدلیہ کے حق میں ہے۔
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے: "کیا عدلیہ اتنی کمزور ہے کہ آپ اسے مضبوط کرنا چاہتے ہیں؟ عدلیہ اتنی کمزور نہیں کہ اسے ایک سیاسی جماعت کی حمایت کی ضرورت ہو۔”
ایڈوکیٹ جنرل نے مہلت مانگی لیکن عدالت نے مسترد کر دی۔ عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا سے دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی ہے۔































