اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان حکومت نے نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی 2026-31 کا حتمی مسودہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کر دیاہے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کے بعد مسودے کی ای سی سی اور وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔ذرائع نے مذیدبتایاکہ نئی آٹو پالیسی کے نفاذ سے مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان ظاہر کیاگیاہے۔علاوہ ازیں گاڑی کی بکنگ کے بعد صارفین کو گاڑی کی اضافی قیمت بھی ادا نہیں کرنا پڑے گی۔
آٹو پالیسی کی اہم تجاویز:
– عام گاڑیاں: کسٹمز ڈیوٹی مرحلہ وار 80 فیصد تک کم کی جائے گی۔
– الیکٹرک گاڑیاں: فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس معاف کرنے کی تجویز،چارجنگ اسٹیشن کے سامان پر صرف 1 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد ہوگی۔
– الیکٹرک گاڑیوں کا قرض: قرض کی حد 1 کروڑ اور مدت 5 سال کرنے کی سفارش۔
– صارفین کے تحفظ: گاڑی کی بکنگ کے بعد قیمت بڑھنے کی ذمہ دار کمپنی ہوگی۔ صارف کو بکنگ کے وقت ہی ڈیلیوری کی تاریخ بتانا بھی لازم ہوگا۔
کمپنیوں کے لئے 6 اصول اور اہداف:
گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لئے 6 اصول طے کئے گئے ہیں۔ ٹریکٹر، موٹر سائیکل، رکشہ ساز کمپنیوں اور آٹو پارٹس کے لئے برآمدی ہدف 15 فیصد اور کاروں کے لئے 20 فیصد تجویز دی گئی ہے۔ اہداف پورے کرنے والی کمپنیوں کو مراعات اور خراب کارکردگی پر جرمانہ عائد ہوگا۔ اہداف پورے نہ کرنے پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔
مالی فوائد:
حکومت کو مجموعی طور پر 1764 ارب روپے کے مالی فوائد حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔
– 5 سال میں 288 ارب روپے خالص منافع
– اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 485 ارب روپے
– ایندھن کی درآمد میں 1226 ارب روپے سے زائد کی بچت متوقع
پانچ سال کی نئی آٹو پالیسی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گرین سگنل کے بعد حتمی مسودہ آئی ایم ایف کوبھیج دیا گیا ہے جس کے بعدوفاقی کابینہ کو بھیجا جائیگا۔
































