اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری اور آئی جی خیبرپختونخواہ سے سرکاری مشینری استعمال نہ ہونے کا بیان حلفی طلب کر لیا۔ عدالت نے دونوں افسران کو پیر کو آئندہ سماعت پر بھی پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر، جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے شہری وقاص احمد کی درخواست پر سماعت کی۔
عدالت کے اہم ریمارکس:
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا "اگر اسلام آباد کے حقوق متاثر ہوں گے تو یہ عدالت مداخلت کرے گی”۔
انہوں نے استفسار کیا "کیوں یہ احتجاج ہمیشہ اسلام آباد کی طرف ہی آتے ہیں؟ کیا وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی سیاسی ایکٹیویٹی ہے؟”
وزیراعلیٰ کے حلف پر بات کرتے ہوئے کہا "وزیراعلیٰ کو ریاست سے زیادہ مخلص ہونا چاہیے”۔
ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے دلائل:
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل نے عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ "اسلام آباد ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار صرف اسلام آباد کی حدود تک ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان، کے پی کو ہدایات دینا اس عدالت کا دائرہ اختیار نہیں”۔
انہوں نے استدعا کی کہ پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ کو بھی کیس میں فریق بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ کے بیان پر کہا "وہ ریاست کے ساتھ بہت زیادہ مخلص ہیں، کوئی ایسا بیان نہیں دیا جو آئین، قانون اور ریاست کے خلاف ہو”۔
چیف سیکریٹری کے پی نے بتایا کہ سرکاری مشینری کے سیاسی استعمال روکنے کا نوٹیفکیشن پچھلے سال ہی جاری کر دیا گیا تھا۔
دیگر صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کا موقف:
– ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ: "میں شہری آزادی کا سخت حامی ہوں۔ میں نے پنجاب میں شیلنگ ہوتے اور پولیس اہلکار شہید ہوتے دیکھے ہیں”۔
– ایڈووکیٹ جنرل سندھ: "عدالت جو بھی حکم دے گی اس پر عمل کیا جائے گا”۔
عدالت نے جواب الجواب دلائل طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ باقی صوبوں کے افسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیس کی مزید سماعت پیرتک ملتوی کر دی گئی۔































