- اسلام آباد(ویب ڈیسک)
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے لئے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جا رہی ہیں۔
عدالتی نظام میں اصلاحات اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے حوالے سے قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا:
1. ججز کو بیرونی دباؤ سے آزاد کرنے کے لئے کوڈ آف کنڈکٹ میں تبدیلی کی گئی ہے۔ جج کو بیرونی دباؤ سے آزاد کرنے کے لئے پوری عدلیہ ساتھ ہے۔
2. عدلیہ میں بہتری کے لئے "انصاف تک رسائی” پروگرام کے تحت رواں سال 3 ارب سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے۔ ماضی میں ایکسیس ٹو جسٹس پروگرام کے تحت 20 سالوں میں صرف 900 ملین جاری ہوئے تھے۔
3. تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں اور نوجوان ججز بہترین انداز میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
ضلعی عدلیہ پر زور:
چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدالتیں نظام انصاف میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انصاف کی بروقت فراہمی ضروری ہے۔ ضلعی عدالتوں اور ہائیکورٹ کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔
عدلیہ کی سہولیات میں بہتری:
انہوں نے مزید بتایا:
1. عدالتوں کو سولر نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
2. عدلیہ کو انٹرنیٹ کی بہترین سہولت اور ای لائبریریز کی سہولت فراہم کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
3. بلوچستان کی تمام تحصیلوں اور اضلاع میں سولر سمیت بنیادی ضروریات پر کام جاری ہے۔ 18 اضلاع میں سہولت فراہم کی جا چکی ہے، باقی اضلاع میں ایک ماہ میں سہولیات مکمل کر دی جائیں گی۔
4. خواتین اور بچوں کے لیے سہولت سینٹرز کی فراہمی پر بھی کام ہو رہا ہے۔
5. ملک بھر کے جوڈیشل افسران کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دیگر اہم نکات:
چیف جسٹس نے کہا کہ عوامی اعتماد وراثت میں نہیں ملتا، یہ دیانت داری سے حاصل ہوتا ہے۔عدالتی نظام میں اصلاحات کے لئے زمینی حقائق کوسمجھنا ضروری ہے۔
انہوں نے عدالتی افسران کی سہولیات اور شرائط ملازمت میں ہم آہنگی کے لیے کمیٹی قائم کرنے اور رول آف لا کی رینکنگ کی تمام تفصیلات فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔































