پاکستان اور گوگل کاڈیجیٹل تبدیلی کا تاریخی معاہدہ: 2030 تک آئی ٹی برآمدات 30 ارب ڈالر کا ہدف مقرر

اسلام آباد(خصوصی نامہ نگار)
پاکستان اور گوگل کے درمیان ڈیجیٹل تبدیلی،مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی برآمدات کے فروغ کے لیے اہم مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ہو گئے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت گوگل ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں یہ مفاہمتی یادداشت طے پائی۔

معاہدے کے اہم نکات
مفاہمت کا مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں، آئی ٹی برآمدات، مصنوعی ذہانت اور جدت کے فروغ کے لیے تعاون کو وسعت دینا ہے۔

1. ڈیجیٹل مہارتیں: گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام کو توسیع دینے پر اتفاق۔ گوگل نے 2026 کے لیے پاکستان میں 150,000 کیریئر سرٹیفکیٹس کا ہدف مقرر کیا۔
2. طلبہ کے لیے اے آئی رسائی: پاکستانی طلبہ کو ایک سال تک گوگل اے آئی پلس اور جیمنی سمیت جدید اے آئی ٹولز تک مفت رسائی فراہم کی جائے گی۔
3. اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس: اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام میں تعاون۔ یہاں پاکستانی نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت دی جائے گی۔
4. آئی ٹی برآمدات: 2030 تک پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کا روڈ میپ۔ اس کے لیے حکومت، گوگل اور اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ٹاسک فورس قائم کی جائے گی جو برآمدات میں رکاوٹوں کی نشاندہی کرے گی۔
5. دیگر شعبے: موبائل ایپلیکیشنز، گیمنگ انڈسٹری، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ڈیجیٹل تجارت کے فروغ پر اتفاق۔

سرکاری اور زرعی شعبے میں تعاون
– ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن: ڈیٹا اینالیٹکس کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال
– زراعت: فصلوں کی نگرانی، پیش گوئی اور پائیدار زرعی طریقوں کے لیے اے آئی سے استفادہ
– سرکاری خدمات: سرکاری امور کو مزید موثر بنانے کے لیے اے آئی کا استعمال
– ایس ایم ایز: چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے جوڑا جائے گا

وزیراعظم کے وژن کے تحت اس مفاہمت کو ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت کے نئے دور کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین