پمزہسپتال میں اہم شخصیت کاعلاج، سی ٹی کورونری کی سہولت نہ ہونے پر وزیر اعظم کا سخت نوٹس: اعلی سطحی انکوائری کمیٹی قائم

اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار) پاکستان کےوفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز میں ایک اہم شخصیت کے علاج کے دوران ماہر امراض دل کی طرف سے سی ٹی کرونری انجیوگرافی ایڈوائس کرنے پرہسپتال میں یہ سہولت دستیاب نہ ہونے کاانکشاف ہواہے جس پروزیر اعظم محمدشہباز شریف نے سخت نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی قائم کرکے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

وزیراعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر حقائق اور ذمہ داری کا تعین کرے اور اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے۔

انکوائری کمیٹی کے ارکان
چیئرمین: نبیل اعوان، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن

ممبران:
1. سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن
2. بریگیڈیئر ڈاکٹر جہانزیب علی – AFIC
3. ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری
4. پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک
5. بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر عظمت حیات – پمز
6. مسٹر عمر فاروق – سی ٹی اینجیو ٹیکنیشن، AFIC

کمیٹی ضرورت کے مطابق کسی دیگر رکن کو بھی شامل کر سکے گی۔

کمیٹی کے ٹی او آرز
کمیٹی درج ذیل امور کا جائزہ لے گی:
– 2022 سے پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرام کی تکنیکی صلاحیت موجود تھی یا نہیں، اور مطلوبہ مشینری، انسانی وسائل، سافٹ ویئرکس حد تک دستیاب تھے
– 2022 سے اب تک پمز میں کئے گئے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کی تعداد، تاریخیں اور طریقہ کار
– کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان ریفرل میکنزم، باہمی رابطہ اور انتظامیہ کا کردار
– کیا کارڈیالوجی کے مریضوں کو نجی مراکز ریفر کیا جاتا رہا؟ اگر ہاں تو کس ادارے کو ترجیح دی گئی اور سرکاری ہسپتال سے کتنا مالیاتی کاروبا نجی مراکز کی طرف گیا
– دونوں شعبوں کے درمیان عدم رابطہ کاری، بدانتظامی یا غلط فہمی اور اس سے عوامی مفاد کو پہنچنے والا نقصان اور ذمہ دار افسران کا تعین

کمیٹی تمام متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزی شواہد کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ پیش کرے گی تاکہ قانون اور قواعد کے مطابق مذید کارروائی کی جا سکے۔

نیشنل ہیلتھ سروسز ڈویژن انکوائری کے دوران کمیٹی کو معاونت فراہم کرے گا۔

ادھر ذرائع کاکہنا ہے کہ پمز ہسپتال میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت فعال نہ ہونے کا انکشاف اسوقت ہواجب ایک اہم شخصیت کے علاج کے دوران ماہر امراض دل کی جانب سے سی ٹی کورونری اینجیوگرافی ایڈوائس کی گئی تومتعلقہ حکام یہ جان کرورطہ حیرت میں مبتلا ہوگئے کہ ملک کےوفاقی دارالحکومت کےسب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں یہ سہولت دستیاب نہیں ۔

اس حوالے سے شعبہ ریڈیالوجی کی سربراہ ڈاکٹر عائشہ عیسانی کاکہناہے کہ متعلقہ کیس سے قبل مجھ سمیت کسی سے پوچھا تک نہی گیا اوراتنا بڑا بیان دے دیا گیا کہ یہاں پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت موجود نہیں ہے۔

کچھ عرصہ قبل شعبہ امراض قلب کی جانب سے کیسز بھجوائے گئے جنکی سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی گئی، یہ معاملہ ضرور دیکھا جانا چاہیے کہ سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کا پمز میں چار ہزار فیس والا سی ٹی سکین کا ٹیسٹ نجی لیبارٹریوں سے تیس ہزار سے زائد فیس ادا کرکے ہوتاہے۔

مزیداسی طرح کی
Related

اینٹی کرپشن نے راولپنڈی پولیس کا تیسرا سب انسپکٹر رشوت لینے بحریہ ٹاؤن فیز 7 سے گرفتار کرلیا

راولپنڈی(کرائم رپورٹر) اینٹی کرپشن راولپنڈی نے راولپنڈی پولیس کے تیسرے...

حناجاوید قتل کیس: اہلخانہ کا شواہد ٹیمپرنگ کا الزام،تفتیش پر عدم اعتماد،قومی کمیشن کو دوسراخط

راولپنڈی(کرائم رپورٹر) حناجاویدقتل کیس میں مقتولہ کےاہلخانہ نے شواہدمیں ٹیمپرنگ...

راولپنڈی میں سی سی ڈی مقابلہ : ڈکیتی میں ملوث ملزم جاں بحق

راولپنڈی(ویب ڈیسک)تھانہ نصیر آباد کے علاقے سادہ روڈ پرسی...

تازہ ترین