راولپنڈی (کرائم رپورٹر)
تھانہ سول لائن کے علاقے عسکری اپارٹمنٹس میں حنا جاویدکے قتل میں پولیس نے مقتولہ کے خاوند فیصل اصغر امام اور ملازم ذیشان کو باقاعدہ گرفتارکر کے ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت سے 3 روزہ جسمانی ریمانڈحاصل کر لیا ہے۔
اعلیٰ سطحی تفتیشی ٹیم تشکیل
سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرانے کیس کی تفتیش کے لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن سیف اللہ کی سربراہی میں 7 رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
ٹیم میں ایس پی پوٹھوہار چوہدری اظہر علی، ڈی ایس پی سول لائن راجہ شکیل، ایس ایچ او سول لائن آصف سجاد، انسپکٹر ایچ آئی یو مرزا عارف سمیت ٹیکنیکل ماہرین شامل ہیں۔
شواہد جمع، ڈی این اے کا فیصلہ
پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے 19 شواہد کے پارسل بنائے گئے ہیں جن میں شامل ہیں:
– مقتولہ اور گھر کے 3 افراد کے موبائل فون
– فنگر پرنٹس
– مبینہ آلہ قتل، پھندا بنانے والی تار
– ہاتھ باندھنے اور چہرہ ڈھانپنے کے لیے استعمال ہونے والا کپڑا
مقتولہ کے پھٹے ہوئے کپڑے
پولیس اور فرانزک ٹیم نے تقریباً 6 گھنٹے تک جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دئیے گئے۔
پولیس نے دونوں گرفتار ملزمان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
سسر کا بیان ریکارڈ، بیرون شہر جانے پر پابندی
پولیس نے مقتولہ کے سسر اصغر امام کا ابتدائی بیان بھی ریکارڈ کر لیا جس میں اس نے بیٹے اور بہو میں تکرار کا ذکر کیا۔
75 سالہ سسربھی مقدمے میں نامزد ہے۔ پولیس نے اسے شہر نہ چھوڑنے کا پابند کر دیا ہے۔ اگر تفتیش میں ملوث پایا گیا تو گرفتار کیا جائے گا۔
واقعے کی تفصیل
یاد رہے کہ سال 2025 میں شادی کر کے سسرال آنے والی حنا جاوید کی لاش پراسرار حالات میں گھر کے باتھ روم میں شاور سے تار کے پھندے کے ذریعے آدھی لٹکی برآمدہوئی تھی۔
مقتولہ کے بھائی فہدکی مدعیت میں شوہر، سسر اور ملازم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہے۔ ابتدائی طور پر سسر اور ملازم نے گھر میں چوری کی اطلاع دی تھی۔
خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے واقعہ پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے تعزیت کی۔
ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے حکومت پنجاب سے مکمل انکوائری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مثال قائم ہو ۔
انہوں نے پاکستان میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔































