راولپنڈی: حناجاویدکاسفاکانہ قتل:کیس میں آنے والے تمام پولیس افسران کے بیانات بھی قلمبند ہونگے۔

45557a1a 368c 43c0 9407 F487773ac424

راولپنڈی (ویب ڈیسک)قومی اسمبلی کی سابق ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکٹوحنا جاوید قتل کیس میں تفتیشی ٹیم نے وقوعے سے لے کر نعش برآمدگی تک تمام افراد کے بیانات قلمبند کرنا شروع کردئیے ہیں۔

تفتیشی ٹیم کوڈی این اے اور فرانزک رپورٹس کاانتظار،کیس کونور مقدم کی طرز پر ہائی پروفائل بنا کرتفتیش جاری

راولپنڈی میں حنا جاوید قتل کیس کی تفتیش جاری ہے۔ تفتیشی ٹیم نے وقوعہ والے دن اطلاع ملنے سے لے کر نعش ملنے اور پوسٹ مارٹم کے لئےمنتقلی تک جائے وقوعہ پر موجود تمام پولیس افسران، اہلکاروں اور دیگر افراد کے بیانات قلمبند کرنا شروع کر دئیے ہیں۔

تفتیش کی پیش رفت
سینئر پولیس آفیسر کے مطابق حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل کیس ہے۔ کیس ہائی پروفائل نہ بھی ہوتا تو قتل کے مقدمات میں معمولی سے معمولی بات کوبھی صرف نظر نہیں کیا جاتا۔

تفتیشی ٹیم نے سب سے پہلے اطلاع پانے والے چوکی طارق آباد کے عملے اور موقع پر پہنچنے والے اے ایس آئی کے بیانات لئے۔ بعد میں آنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کو بھی الگ الگ اوقات میں طلب کر کے بیانات حاصل کرناشروع کردیئے ہیں۔

پولیس کے مطابق اطلاع مقتولہ کے سسر کی جانب سے ملی کہ گھر میں چور گھس آئے ہیں۔موقع پر پہنچنے پر دروازوں کے لاک اور ہینڈل ٹوٹے ہوئے تھے۔ ملازم نے بتایا کہ ایک شخص باہر بھاگا اور ایک اندر ہے۔ کمرے کے باتھ روم سے حنا کی نعش برآمد ہوئی ۔

فرانزک شواہد
پولیس نے فرانزک کے لیے تقریباً 19 پارسل بھیجوائے ہیں جن میں شامل ہیں:
– حنا جاوید کے کپڑے
– ہاتھ باندھنے اور چہرے پر رکھا گیا کپڑا
– نعش باندھنے کے لیے استعمال ہونے والی تار
– فرش پر پڑا خون
– گھر کے تمام افراد کے موبائل فون اور فنگر پرنٹس

پولیس نے مقتولہ کے سسر، خاوند اور ملازم کے ڈی این اے، پولی گرافک اور دیگر ضروری ٹیسٹ بھی کرا لیے ہیں ۔

سینئر آفیسر کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز میں اہم انحصار فرانزک شواہد پر ہوتا ہے ۔ تمام رپورٹس کا انتظار ہے جس کے بعد تفتیش کو یکسو کرنے میں مدد ملے گی ۔

ملزمان کی صورتحال
مقتولہ کا خاوند فیصل اصغر امام اور ملازم زیشان ارشد 10 روزہ ریمانڈ کے بعد جوڈیشل ہو کر سینٹرل جیل اڈیالہ میں قید ہیں۔ ایف آئی آر میں نامزد تیسرے ملزم مقتولہ کے سسر اصغر فیاض امام کی گرفتاری التواء میں ہے ۔

خصوصی ٹیم تشکیل:
بتایاگیاہے کہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن سیف اللہ کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تفتیش کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ تفتیش یا چالان میں کوئی سقم نہ رہے اس کے لئے پراسیکیوشن برانچ کے ماہرین بھی ان بورڈ رکھے گئے ہیں جو تمام تر تفتیشی پہلووں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔جنہیں سختی کے ساتھ اعلی حکام نے ہدایت کررکھی ہے کہ سوفیصد میرٹ پر ٹھوس شواہد پرمبنی چالان کی تکمیل کویقیننی بنایاجائے گا۔

مزیداسی طرح کی
Related

کئی افسران کے تقر و تبادلے، PASگروپ کےایک آفیسرکی ترقی منسوخ

اسلام آباد(بیوروچیف)حکومت پاکستان نے بیوروکریسی میں متعددتقرر و تبادلے...

تازہ ترین