وزیراعظم کا جیم اسٹونز پائلٹ پراجیکٹ میں سست روی پر اظہار برہمی

اسلام آباد (ویب ڈیسک)
14 اکتوبر 2026

محمد شہباز شریف کا قیمتی پتھروں و جواہرات (Gemstones) کے پائلٹ پراجیکٹ کی تیاری میں سست روی اور شعبے کی ترقی کے لیے اقدامات میں تعطل پر اظہار برہمی کیاہے۔ترجیحی بنیادوں پر معینہ مدت کے ساتھ لائحہ عمل مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم نے کہا کہ قیمتی پتھروں و جواہرات کے شعبے کی ترقی کے حوالے سے اقدامات ترجیح ہیں، کسی قسم کی سست روی قبول نہیں، قیمتی پتھروں کی کان کنی اور ان کی تراش خراش سے ویلیو ایڈیشن کا ایک پورا ایکو سسٹم تیار کیا جائے۔

شہبازشریف نے کہا کہ قیمتی پتھروں کی غیر معیاری طریقہ کار سے کان کنی اور اسمگلنگ کی وجہ سے ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، پاکستان کو اللہ رب العزت نے قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہے، قیمتی پتھروں اور معدنیات کے وسیع ذخائر سے برآمدات میں اضافے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔

شہبازشریف نے ہدایت کی کہ خطے کے دوسرے ممالک کی طرح قیمتی پتھروں و جواہرات کے لیے برانڈ پاکستان پر کام کریں، ویلیو ایڈیشن کے لیے سینٹرز آف ایکسیلینس کے جلد قیام کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے، پائلٹ پراجیکٹس اور قیمتی پتھروں کی ماڈل مائنز کی تعمیر کے لیے تمام تر رکاوٹیں دور کی جائیں اور منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قیمتی پتھروں و جواہرات کے شعبے کی ترقی اور ان کی برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں وزیراعظم کو قیمتی پتھروں کی کھوج، تراش خراش اور ان کی ویلیو ایڈیشن کے بعد برآمدات کے لیے تیاری کے پائلٹ پراجیکٹ پر پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حسین آباد اسکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس منصوبے کے لیے 4.8 کنال زمین منتقل ہو چکی، منصوبے کے لیے فنڈز دستیاب ہیں اور تعمیر جلد شروع کر دی جائے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں منصوبے کے لیے زمین کی نشاندہی کی جا چکی ہے، اسلام آباد میں سینٹر آف ایکسیلینس کی تعمیر تک اسے متبادل جگہ پر مکمل طور پر آپریشنل کر دیا جائے گا۔

اجلاس کو شعبے کی ترقی کے لیے پالیسی اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی، نشاندہی شدہ علاقوں کی جیولوجیکل میپنگ مکمل ہو چکی ہے جس میں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں 8 نئے بلاکس کی قیمتی پتھروں کی دریافت کے حوالے سے مزید کام کے لیے نشاندہی کی گئی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس سال شعبے کی ترقی کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ کی مد میں 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے 7 شہروں کے 10 بینکوں کی 80 شاخوں میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم نے آئندہ ہفتے قیمتی پتھروں و جواہرات کے لیے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام اور شعبے کی ترقی کے حوالے سے اقدامات کا جامع لائحہ عمل مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، مشیر وزیراعظم ہارون اختر و دیگر متعلقہ افسران شریک تھے۔

مزیداسی طرح کی
Related

وزیراعظم سے مکہ ڈیفنس الائنس کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 14 اکتوبر 2026 وزیراعظم محمدشہباز شریف سے...

تازہ ترین