طارق اسماعیل ساگر کا سرکاری اعزاز۰۰؟ قلم کے اس سپاہی کو ریاست کب تک بھولتی رہے گی۰۰؟

تحریر:آصف سلیم مٹھا(لندن)

اردو ادب میں جاسوسی ناول کا ذکر ہو اور طارق اسماعیل ساگر کا نام نہ آئے یہ ممکن نہیں۔ ساگر صاحب نے اپنے قلم سے ہزاروں قارئین کو ادب کی طرف متوجہ کیا۔ ان کا مشہور ناول "میں ایک جاسوس تھا” اردو ادب کا شاہکار تصور کیا جاتا ہے۔ اس ناول میں انہوں نے ایک عام شہری کو جاسوس کے روپ میں پیش کر کے قربانی کا پیغام دیا۔ یہ ناول صرف ایک کہانی نہیں بلکہ جذبے اور ایثار کی عملی تصویر ہے جس نے نوجوانوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کیا۔

ان کی دوسری مشہور تصنیف "چناروں کے آنسو” کشمیر کی مظلوم آبادی کے دکھ درد اور قربانیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ کشمیر کی سرزمین کے غم اور مقامی لوگوں کے جذبے کو نہایت دردمند اور حقیقت پسندانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی کتاب "وطن کی مٹی گواہ رہنا” وطن کی مٹی سے وفاداری، اتحاد اور قربانی کا سبق دیتی ہے جو آج بھی پاکستان کے لیے مشعل راہ ہے اور ہر پاکستانی کے دل میں وطن کی محبت کو زندہ رکھتی ہے۔

ساگر کی ادبی خدمات چار دہائیوں پر محیط ہیں۔ انہوں نے سینکڑوں ناول، افسانے اور مضامین لکھ کر اردو ادب کو ایک نئی جہت دی۔ ان کی تحریروں میں سچائی، سادگی اور اخلاقی پیغام ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ وہ ہمیشہ نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے اور انہیں قلم کی حرمت اور ذمہ داری کا احساس دلاتے رہے ہیں۔ انہوں نے قلم کی حرمت اور ذمہ داری کا احساس دلایا اور بتایا کہ قلم کی طاقت کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

میرے لیے طارق اسماعیل ساگر صرف ایک ممتاز مصنف نہیں بلکہ میرے استاد اور روحانی رہنما بھی ہیں۔ لندن میں جب میں نے عملی طور پر قلم پکڑنا سیکھا تو ان کی شفقت اور رہنمائی ہر قدم پر میرے ساتھ رہی۔ جب میں نے عملی طور پر قلم پکڑنا سیکھا تو ان کی تصوفی قدم، ان کی باتیں، ان کے مشورے میرے لیے مشعل راہ ثابت ہوئے۔ انہوں نے مجھے سکھایا کہ قلم ایک مقدس امانت ہے جسے صرف حق، سچ اور وطن کی خدمت کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور اس کی حرمت کا خیال رکھنا چاہیے۔ آج بھی وہ نئے لکھنے والوں کی تربیت اور ادب کی خدمت میں مصروف ہیں اور اپنی تمام صلاحیتیں اس کام کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔

ہم ادبی حلقہ حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ طارق اسماعیل ساگر کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں سرکاری اعزاز سے نوازا جائے۔ ان کے کام کی پہچان ہوگی اور نئی نسل کو ادب و تحقیق کی طرف راغب کرے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی تمام کتب کو قومی اور عوامی لائبریریوں میں محفوظ کر کے نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان سے علم و ادب اور وطن دوستی کا سبق سیکھ سکیں اور ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے۔

تمام حقوق محفوظ ہیں © 2026 تحریر: آصف سلیم مٹھا

مزیداسی طرح کی
Related

بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو: جعفرآباد میں 76 کروڑ سے 45 ترقیاتی منصوبے مکمل

کوئٹہ (ویب ڈیسک) 10 اکتوبر 2026 بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو...

پاکستان اور بھارت کی جوڑی نے جے 30 جبوتی ٹینس ٹورنامنٹ ڈبلز ٹائٹل جیت لیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 10 اکتوبر 2026 محمد یحییٰ پاکستان سے...

تازہ ترین