اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار)
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی اور تقریباً 2 منٹ پر محیط سی سی ٹی وی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔
وزیراعظم کے بڑے فیصلے
وزیراعظم نے کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ 8 افراد کو فوری معطل کرنے اور ان کے خلاف فوری کارروائی کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ذمہ داران کے خلاف ڈیپارٹمنٹل کے ساتھ فوجداری قوانین کے تحت بھی کارروائی کی جائے۔
سیکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دی گئی۔
معطل ہونے والے 8 افسران
1. پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر
2. جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر وارث علی شاہ
3. نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض
4. سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم
5. ڈاکٹر نوشیلہ امجد
6. اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان
7. سی ڈی اے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن
دیگر اہم اعلانات
– نرس رضیہ نورین کوستارہ خدمت دینے اور 1 کروڑ روپے انعام کی منظوری۔ وزیراعظم نے کہا "اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچے کی جان بچانے پر پوری قوم کو فخر ہے”
– وارڈ میں موجود دیگر ایک نرس اور خاتون گارڈ کو OSD بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت
– ڈاکٹر محمد سلمان، سی ای او NIH کو پمز کا ایکٹنگ ایگزیکٹو ڈائریکٹرتعینات کرنے کی ہدایت
– ہٹائے گئے افسران کی جگہ فوری نئی تعیناتیاں کرنے کا حکم
– تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ فوری پبلک کرنے کی ہدایت۔ رپورٹ وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر آویزاں کی جائے گی
وزیراعظم کا دوٹوک موقف
وزیراعظم نے کہا کہ "مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا”۔
"معصوم بچوں کی موت اندوہناک واقعہ ہے۔ بچوں کے والدین کے ساتھ پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں۔ مثالی سزا دلوائی جائے گی تاکہ دوبارہ کسی کی مجرمانہ غفلت سے کسی ماں کا لخت جگر جدا نہ ہو”۔
تحقیقاتی رپورٹ کے ہولناک انکشافات
– پمز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کے لیے کوئی تفصیلی SOP یا ٹریننگ موجود نہیں
– 13 SOPs میں صرف 2 ذیلی سیکشنز میں آگ کا ذکر
– واقعے کے وقت سپروائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا
– وارڈ میں 2 نرسیں، 1 خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر موجود تھے
– آگ لگنے سے پورا وارڈ جلنے میں صرف 2 منٹ لگے
– نرس رضیہ نورین نے آگ پھیلنے سے پہلے جان کی پرواہ کیے بغیر 1 بچے کی جان بچائی
– آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی کو کال گئی، پہلا ریسپانس 15 منٹ بعد پہنچا
– جولائی میں نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کے بعد بھی حفاظتی اقدامات نہیں لیے گئے
– وارڈ میں فائر الارم، سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا
– WHO کے قواعد کی خلاف ورزی پائی گئی
– آگ جیسی ہنگامی صورتحال کے لیے کوئی افسر موجود نہیں، اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی ذمہ داری دی گئی تھی
اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، سید مصطفی کمال، کمیٹی سربراہ شاہد خان ، ارکان بیرسٹر نبیل اعوان، میجر جنرل ریٹائرڈ خورشید اترا اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔































