اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے مقامی آٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری اور گاڑیوں کی برآمدات کو فروغ دینے خاطر مجوزہ نئی آٹو پالیسی 2026-31 کا مسودہ منظوری کے لئے وزیراعظم کو بھجوا دیا ہے۔
وزیراعظم میاں شہباز شریف اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کردہ پالیسی کے حتمی مسودے کا جائزہ لینے کے لئے آج بدھ کواعلی سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی کے اعلان نئی آٹوپالیسی سے قبل آئی ایم ایف سے بھی منظوری لی جائے جبکہ ای سی سی اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اس پر عملدرآمد شروع ہوگا۔
نئی آٹو پالیسی میں ہائبرڈ گاڑیوں کی امپورٹ پر آئندہ 5 سال کے اندر ٹیکس میں 20 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ 851 سے 1000 سی اور 800 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔
مجوزہ آٹو پالیسی کے مطابق 1501 سے 1800 سی سی اور 1801 سی سی سے زائد ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی 5 سال میں مرحلہ وار 50 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کی جائے گی۔ ہائبرڈ ٹرک پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد، ہائبرڈ کمرشل گاڑیوں پر 60 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد اور ہائبرڈ بسوں پر 30 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی عائد کرنے کی بھی تجویز ہے۔ 2001 سے 3000 سی گاڑیوں پر 10 فیصد اور 3001 سی سی اور اس سے بڑی گاڑیوں پر 19.5 فیصد ماحولیاتی لیوی عائد کی جائے گی۔ اس سے پانچ سال میں مجموعی طور پر 142.79 ارب روپے آمدن متوقع ہے جو برآمدات کے فروغ اور تحقیق و ترقی پر خرچ کی جائے گی۔
جس سے سرمایہ کاری بڑھے گی اور ملک میں معیاری گاڑیوں کے کاروبار کو وسعت و فروغ ملے گا۔ کاروباری سرگرمیاں تیز اور سازگار ماحول پیدا ہوگا۔































