شیشہ کیفے :اگر تمباکو میں چرس ملادیں تواسے بھی سموکنگ کہیں گے۰؟ آئی جی ،ڈی سی سے استفسار،ایک ماہ میں رولز بناکررپورٹ دیں، ہائیکورٹ

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو شیشہ کیفوں کے حوالے سے ایک ماہ کے اندر رولز بنانے کی ہدایت کر دی۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ رولز بنائے بغیر اِن شیشہ کیفوں کو اس طرح نہیں چلنے دیا جائے گا۔ نہ کوئی رول بنا اور نہ کوئی ریگولیشنز ہیں۔ اس طرح کے انتظامات اسلام آباد کے لوگوں کی زندگی کو تباہ کر رہے ہیں۔ ایک اوپن جگہ بیٹھ کر یہ سب کچھ ہو رہا ہے، یہ تو آپ اپنی نسلیں تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے اسلام آباد کے شیشہ کیفوں کی تفصیلات طلبی کے لئے دائر درخواست پر سماعت کی۔ آئی جی اسلام آباد سیدعلی ناصر رضوی اور ڈپٹی کمشنر ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ ایڈوکیٹ جنرل نوید حیات ملک اور قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل منظور ججہ بھی عدالت میں موجود تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے کاروبار کا بہت احترام ہے مگر پورے کا پورا شہر تباہ نہ کریں۔ تمباکو کے ساتھ اگر چرس کو ملا دیا جائے تو اس کو سموکنگ ہی کہیں گے؟ ایسا نہ ہو کہ کل آپ کا بھائی، آپ کے گھر والا کوئی شخص اس کا شکار ہو جائے۔

آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ عدالتی حکم کے بعدانکے خلاف سخت ایکشن لیا گیا ہے۔ کیفے کے مالکان کی طرف سے مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 14 اور 15 سال کے بچے بچیاں وہاں پائے گئے۔ کچھ لوگوں پر ایف آئی آر درج کی ہیں اور آگاہی مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔

قائمقام پراسیکیوٹر جنرل منظور احمد ججہ نے کہا کہ وزارت صحت اور حکومت کو ڈائریکشن جاری کی جائے کہ ان کے رولز بنائے جائیں۔ صرف سموکنگ نہیں اس سے بڑھ کر بھی چیزیں ہو رہی ہیں، ہم اس پر رپورٹ دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ جب ریڈ کیا جاتا ہے تو دروازے بند کر دیتے ہیں؟ جہاں پر بھی پتہ چلے کیفے سیل کریں۔

چیف کمشنر اور ضلعی انتظامیہ نے تحریری جواب میں بتایا کہ باقاعدہ قوانین کی منظوری تک شیشہ کیفوں کے این او سی عارضی انتظام کے تحت جاری کئے جا رہے ہیں۔ تمام این او سیز بغیر کسی فیس کے جاری کیے گئے ہیں۔ شیشہ صرف کھلی اور بغیر چھت والی جگہوں پر فراہم کرنے کی اجازت ہے جس کے لئے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر سے الگ تحریری "ٹیرس پرمٹ” حاصل کرنا لازمی ہے۔

عدالت نے شیشہ کیفوں میں فائر سیفٹی، آتشزدگی سے بچاؤ اور شیشہ صرف بالغ افراد کو پیش کرنے کی شرط عائد کی۔ عدالت نے رولز بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی ہے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین