قومی اسمبلی کےبعدسینیٹ سے بھی کے پی کےمیں ایمرجنسی کی توثیق،اپوزیشن کاواک آؤٹ قراردادکی کاپیاں پھاڑدیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک)
14 اکتوبر 2026

قومی اسمبلی کے بعدسینیٹ نے بھی صوبہ خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی لگانے کی توثیق کر دی ہے ایوان نے قرارداد بھی منظور کر لی۔ قرارداد کی منظوری پر اپوزیشن نے ایوان میں شدید احتجاج کیا، قرارداد کی کاپیاں پھاڑدیں اور واک آؤٹ کیا۔سینیٹ کی مزید کارروائی جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

بدھ کوسینیٹ کا اجلاس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر وقفہ سوالات کو موخر کرنے کے بعد وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے آرٹیکل 232 کی شق ایک کے تحت خیبرپختونخوا میں صدر مملکت کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کرنے کی دستاویز ایوان میں پیش کی۔

سینیٹ میں وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ ایک آئینی ذمہ داری ہے جس کو پورا کرنے کے لئے ایوان میں پیش کیا گیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے اراکین کو قرارداد پر بولنے کا موقع دیا تو تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے ایمرجنسی اقدام کوشدید ہدف تنقیدکانشانہ بنایا۔

پی ٹی آئی اراکین کا موقف:
سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ وزیر داخلہ نے کل ایوان میں غلط بیانی کی، فیصل واوڈا نے چھ ماہ قبل کہا تھا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج لگے گا، اس کا مطلب ہے دہشت گردی بہانہ تھا، صوبائی حکومت نشانہ تھی۔

پی ٹی آئی سینیٹر حامد خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کو غیر آئینی طریقے سے ختم کیا گیا، یہ ایمرجنسی اور گورنر راج نہ صرف غیر آئینی بلکہ آئین سے متصادم ہے۔ اصل فیصلہ کہیں اور ہوا، یہاں صرف عمل درآمد کیا گیا۔

سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ حکومتی وزرا نے صوبے کے کروڑوں عوام کی دل شکنی کی ہے، جس صوبے نے اپنے بچے قربان کیے اسے گلستان سے قبرستان بنایا گیا۔

سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ وہ ایمرجنسی کی شدید مخالفت کرتے ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ایک دلیر آدمی ہے جسے کرسی کی فکر نہیں تھی۔

جے یوآئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ صدر کے اطمینان کے لئے جو کاغذات پیش ہوئے وہ ہمیں نہیں ملے، ہمیں سوشل میڈیا سے ملے ہیں۔

جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ اب ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی نہیں رہی۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ ہمارے لئے پاکستان سب سے پہلے ہے، دہشت گردی ہمارے لیے ریڈ لائن ہے،خیبرپختونخوا میں گزشتہ دوسالوں میں دہشت گردی میں دو سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہر آخری آپشن استعمال کرنے پر زور دیا، مذاکرات میں بانی کو ڈاکٹر سمیت دیگر سہولیات فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی تھی لیکن خیبرپختونخوا والوں نے ویٹو کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جلسے میں کہا تھا کہ میں دہشت گردی کے خلاف نہیں لڑوں گا اور اسی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے۔

سینیٹ میں سخت شورشرابے کے بعد اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا جسکے بعد قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

مزیداسی طرح کی
Related

190 ملین پاؤنڈ کیس: بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیل مسترد

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 14 اکتوبر 2026 190 ملین پاؤنڈ...

وزیراعظم کا جیم اسٹونز پائلٹ پراجیکٹ میں سست روی پر اظہار برہمی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 14 اکتوبر 2026 محمد شہباز شریف کا...

وزیراعظم سے مکہ ڈیفنس الائنس کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 14 اکتوبر 2026 وزیراعظم محمدشہباز شریف سے...

تازہ ترین