اسلام آباد(ویب ڈیسک)
16 اکتوبر 2026
غیرسنجیدہ اورفضول درخواست دائرکر کےعدالتی وقت ضائع کرنے پراسلام آباد ہائی کورٹ نے سراج احمد ایڈووکیٹ کو2 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیاہے۔
اسلام آبادہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ جرمانہ جمع ہونے تک درخواست گزار کوہائی کورٹ کے انتظامی اورعدالتی برانچوں میں پیش ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار سرکاری خزانے میں 2 لاکھ روپے جمع کرانے کا پابند ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار کو صرف سماعت کے لیے مقرر مقدمات میں پیش ہونے کی غرض سے عدالت آنے کی اجازت ہوگی۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق اعتراضات پر کوئی قابل اطمینان دلیل نہیں دی اور یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ معاملہ پہلے ہی ہائی کورٹ کے بینچ ون میں زیر التوا ہے۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست انتہائی غیر سنجیدہ انداز میں تیار کی گئی تھی اور قانونی تحریر و عدالتی طریقہ کار کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ نہ درخواست کی تیاری اور نہ ہی عدالت میں پیشی کے دوران وکیل کا کنڈکٹ درست تھا۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک اور کیس میں وکیل کے ایسے کنڈکٹ پر تحمل کا مظاہرہ کیا جا چکا ہے اور درخواست گزار اپنے ذاتی مقدمات میں پہلے بھی غیر سنجیدہ رویہ اپناتا رہا ہے، جس پر عدالت پہلے بھی تنبیہ کر چکی ہے۔
ہائی کورٹ نے عدالتی حکم کی نقل اسلام آباد ہائی کورٹ بار، اسلام آباد بار کونسل اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کو بھجوانے کی ہدایت بھی کردی ہے۔




























