حکومت فرٹیلائزر کمپنیوں پر سیس عائد کرنے پر غور کررہی ہے تاکہ ان کے اضافی منافع سے حاصل ہونے والی رقم کا فائدہ براہ راست کسانوں تک پہنچایا جا سکے۔اس سلسلے میں وزیر پٹرولیم اور قدرتی وسائل علی پرویز ملک، وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر، اور پٹرولیم سیکٹر ٹاسک فورس کے قومی کوآرڈینیٹر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ فرٹیلائزر سیکٹر پر سیس عائد کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کیا جا سکے۔ یہ تجویز چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی کے سامنے پیش کی جو گیس کی قیمتوں اور فرٹیلائزر گیس کی مختص مقدار کی نگرانی کے لیے کام کر رہی ہے۔کمیٹی کے اجلاس میں وزیر موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ سوئی نیٹ ورک میں گیس کی کمی کے پیش نظر فرٹیلائزر پلانٹس کو دی جانے والی گیس کی مقدار کا جائزہ لینا ضروری ہے اور اضافی قیمت کے اوسط حساب (ویکوگ) کو موجودہ مسائل کا طویل مدتی حل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام صنعتوں کو جنہیں گیس کی بلند قیمتوں کا سامنا ہے، مساوی سلوک ملنا چاہیے اور گیس کی تقسیم کو امپورٹ سبسٹیٹوشن کے طور پر دیکھا جائے۔وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ مجوزہ گیس مختص کی گئی مقدار دو سال کے بعد ممکن ہوگی اور نیٹ ورک سے جڑی تین فرٹیلائزر پلانٹس کی گیس دستیابی کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدوں کے احترام کو یقینی بنانا ضروری ہے اور پٹرولیم ڈویژن نے پہلے ہی وزارت قانون کو دوطرفہ اور سہ طرفہ معاہدوں کی دوبارہ کھولنے اور قیمتوں کے انتظامات پر رائے کے لیے خط ارسال کر دیا ہے۔




























