مانسہرہ (ویب ڈیسک)موسیٰ دا مصلہ سے لاپتہ آئرش سیاح کی نعش 5 روز بعد پراچہ کٹھہ سے برآمدہوگئی ۔الیگزینڈر گہری کھائی میں گر کر جاں بحق، فیملی پاکستان پہنچ گئی۔
مانسہرہ کے سیاحتی مقام موسیٰ دا مصلہ سے لاپتہ آئرش سیاح الیگزینڈر کی نعش پانچ روزہ سرچ آپریشن کے بعد پراچہ کٹھہ کے مقام سے برآمد کر لی گئی۔نعش کوکنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ* منتقل کر دیا گیا ہے۔
آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والا سیاح الیگزینڈر دوست کے ہمراہ 29 اگست کو موسیٰ دا مصلہ سیر کے لئے گیا تھا۔ واپسی پر خراب موسم اور کم روشنی کے باعث دونوں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ۔
پولیس کے مطابق الیگزینڈر پراچہ کٹھہ کی گہری کھائی میں گر کر جاں بحق ہوا ۔
سرچ آپریشن
ساتھی سیاح نے 30 اگست کو تھانہ نواز آباد میں گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی جس پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔
ہزارہ پولیس، ریسکیو 1122، محکمہ جنگلات اور مقامی رضاکاروں پرمشتمل 200 سے زائد اہلکاروں نے 5 دن تک پہاڑی علاقے میں تلاش جاری رکھی۔بالآخر نعش مل گئی۔
فیملی کا فیصلہ
متوفی کی فیملی بھی پاکستان پہنچ چکی ہے اورفوری ہسپتال پہنچ کرنعش کا پوسٹ مارٹم نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق قانونی کارروائی کے بعد لاش کو ورثاء کے حوالے کر کے اسلام آباد روانہ کر دیا جائے گا۔
ڈی آئی جی ہزارہ نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہزارہ پولیس ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی رہے گی۔
































