اسلام آباد (ویب ڈیسک)
13 اکتوبر 2026
اسلام آباد ہائیکورٹ نے غیر مشروط معافی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے بیماری کا بہانہ بنا کر عدالت پیش نہ ہونے والے سی ڈی اے ممبر اسٹیٹ زمان وٹو کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کردی ہے جبکہ انہیں سات روز میں جواب جمع کرانے کا حکم دے دیاہے۔
منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ زمان وٹو اپنے وکیل نذیر جواد کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کےچیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ پہلے یہ توہین عدالت والا کیس بھگتیں، باقی مرکزی پٹیشن بعد میں سنیں گےاورآئندہ سماعت پر پراسیکیوٹر تیاری کے ساتھ عدالت پیش ہوں۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ ہم نے گزشتہ سماعت پرآرڈر کیا تھاکہ یہ دوسری عدالت پیش ہوئے لیکن یہاں نہیں ہوئے۔وکیل سی ڈی اے نذیر جواد نے کہا کہ ایسا نہیں ہے انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ بیمار ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کیا ہمارا آرڈر غلط ہے۔ہم نے آرڈر میں لکھا کہ یہ دوسری عدالت پیش ہوئے، یہاں نہیں۔ وکیل سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ یہ دوسری عدالت میں اس لئے پیش ہوئے کہ اُس کورٹ سے جلدی فارغ ہو جائیں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ 60 سال سروس مکمل کرنے کے باوجود سی ڈی اے ممبر کو عدالتی احترام کا معلوم نہیں ہو سکا۰۰۰؟ چیف جسٹس کی عدالت بڑی ہوتی ہے انہوں نے یہ تک گوارا نہیں کیا کہ وہ یہاں بتا دیتے۔
وکیل نے کہا کہ ہم غیر مشروط معافی مانگتے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل حسنین تھہیم نے کہا کہ زمان وٹو چیئرمین سی ڈی اے کے ساتھ پروٹوکول میں پیش ہوئے۔ عدالت طلبی پر سی ڈی اے ممبر زمان وٹو نے بتایا کہ وہ بیمار ہیں جبکہ دوسری عدالت میں چیئرمین سی ڈی اے کے پروٹوکول کے لئے پیش ہوئے تھے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مذید سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کرتے ہوئے زمان وٹوکو عدالت میں جواب جمع کرانے کاحکم دیاہے۔





























