راولپنڈی (ویب ڈیسک)
09اکتوبر 2026
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے حکم پرراولپنڈی میں نہایت ہی سفاکانہ طریقے سے قتل حناجاویدکیس میں ورثاء کی جانب سے مبینہ قاتل شوہر سے پولیس کی ملی بھگت کی وجہ سے درست تفتیش نہ ہونے اورساراملبہ گھریلوملازم پرڈالنے کی مبینہ کوشش کرنے، ملزم کے بھائی کی پولیس کے ساتھ مبینہ وائس چیٹس کی شکایت پرمبنی تحریری خط بھیجنے پراعلیٰ سطحی تحقیقات شروع ہوگئی ہیں اورسی سی ڈی کی ٹیم راولپنڈی پہنچ گئی ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ راولپنڈی میں حنا جاوید قتل کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور اعلیٰ سطحی تحقیقات باضابطہ شروع کر دی گئی ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی پنجاب سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ خصوصی ٹیم کے ساتھ راولپنڈی پہنچ گئے۔انہوں نے سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا، ایس ایس پی آپریشنز اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے ساتھ جائے وقوعہ کا معائنہ بھی مکمل کرلیاہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلی پنجاب کے حکم پر قائم خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے لال کڑتی میں قائم اپارٹمنٹ کا دورہ بھی کیاہے جہاں حنا جاوید کونہایت بیدردی کے ساتھ تشدد کے بعد سفاکانہ اندازمیں قتل کیا گیا تھا۔جائے وقوعہ پر تفتیشی ٹیم نے تحقیقاتی ٹیم کو مقدمہ کی اب تک کی تفتیش کی تمام تفصیلات سے بھی آگاہ کیاہے۔
سی سی ڈی کی اعلی سطحی تحقیقاتی ٹیم نے پوسٹ مارٹم رپورٹ،آلہ قتل، موقع سے ملنے والے اہم ترین شواہد، جائے وقوعہ سے کی جانے والی فون کالز اور درج مقدمے میں ملزمان سے متعلق خصوصی ٹیم نے اہم سوالات کئے۔
ذرائع نے مذیدبتایاکہ حناجاوید قتل کا مقدمہ تھانہ سول لائن میں درج ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کیس کا نوٹس لے کر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا تھا جس پرتیزی سے کام شروع کردیاگیاہے۔
لاہور سے آئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے دورے کے موقع پر ڈی ایس پی سول لائن، مقدمے کی تفتیشی ٹیم اور تھانہ سول لائن کے ایس ایچ او بھی موجود تھے۔ سہیل ظفر چٹھہ اپنی ٹیم کے ساتھ آج بروز جمعہ پہلے تفتیش کرنیوالی پوری تفتیشی ٹیم کے انٹرویو بھی کریں گے جس میں وہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ راولپنڈی پولیس کی سابقہ تفتیشی ٹیم نے کہاں کہاں تفتیش میں گڑ بڑ کی تھی جس پر مقتولہ کے ورثاسراپا احتجاج ہیں۔






























