اسلام آباد(ویب ڈیسک)
17اکتوبر2026
مودی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں نماز جمعہ کے خطبات کےلئےمشترکہ موضوعات کی تجویز پر وقف بورڈ کو شدید تنقید کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔
مودی حکومت کے ہندوانتہا پسندوں کےزیراثر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی مذہبی آزادی پرایک اور وار کیا گیا ہے۔ بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں نماز جمعہ کے خطبات کے لئے مشترکہ موضوعات کی تجویز پر وقف بورڈ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
مقبوضہ کشمیرکے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایکس پراپنے پیغام میں کہاکہ بی جے پی کی مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت ناقابل قبول ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ہندوستان گزٹ کے مطابق متحدہ مجلس علماء نے بھی اقدام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسلمان اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔
سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اقدام کو مجوزہ یکساں سول کوڈ سے تشبیہ دیتے ہوئے جموں و کشمیر کو بی جے پی کی تجربہ گاہ قرار دیا۔






























