اسلام آباد(ویب ڈیسک)
27اکتوبر2026
اقتصادی و مالیاتی اصلاحات کے وفاقی مشیر خرم شہزاد نے مالی سال 26/27 کی پہلی سہ ماہی کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 20 فیصد اضافے کے ساتھ 720 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی جس میں 691 ملین ڈالر کی نجی سرمایہ کاری 44 فیصد اضافے کے ساتھ شامل ہے۔
وفاقی مشیر خرم شہزاد نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا سرمایہ کار بیس 55 فیصد اضافے سے 656,000 سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ ستمبر 2026 میں 25,281 نئے سرمایہ کاروں کا اضافہ ہوا جو ایک نئی بلند ترین سطح ہے جس میں 85 فیصد جن زی اور ملینلز شامل ہیں۔
وفاقی مشیر خرم شہزادکے مطابق مالی سال 26/27 کی پہلی سہ ماہی میں 4 آئی پی اوز کے ذریعے 4.6 ارب روپے کا سرمایہ اکٹھا کیا گیا جو گزشتہ سال کے 0.92 ارب روپے کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہے، تینوں بڑی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی خودمختار ریٹنگ کو ‘B’ کیٹگری میں مستحکم قرار دیا ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام کی جائزہ رپورٹ کے مطابق معیشت پر تسلی بخش عمل درآمد جاری ہے اور بورڈ کی منظوری پر 1.2 ارب ڈالر اضافی فنانسنگ ملے گی، ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 7 فیصد اضافے کے ساتھ 3.1 ٹریلین روپے رہی جو پہلی سہ ماہی کے ہدف سے زیادہ ہے۔
وفاقی مشیر خرم شہزاد نے مذیدکہاکہ انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد 45 فیصد اضافے کے ساتھ 5.77 ملین ہو گئی ہے، پالیسی ریٹ ستمبر 2026 میں 11.5 فیصد پر برقرار رکھا گیا جو جون 2024 کی 22 فیصد چوٹی سے واضح طور پر کم ہے، مرکزی حکومت کا کل قرضہ جون 2026 سے 714 ارب روپے کم ہو کر 86 ٹریلین روپے رہ گیاہے اور توقع ہے کہ مستقبل میں مذید بہتری ہوگی۔




























