اسلام آباد(ویب ڈیسک)
27اکتوبر2026
پاکستان کی سپریم کورٹ نے 25 سالہ لڑکی کے قتل کے ملزم کو شک کی بنیاد پر بری کر دیاہے۔
مدعی کے وکیل کے مطابق ملزم نے 25 سالہ مقتولہ سائمہ بی بی کو چھری سے ذبح کر کے قتل کیا تھا۔ملزم مقتولہ کا ہمسایہ ہے اورمقتولہ پربری نظر رکھتا تھا۔مقتولہ کا شوہر اور دیور اور ایک تیسرا شخص بھی وقوعے کا گواہ ہے۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دئیے کہ ایف آئی آر کے مطابق ملزم اکیلا ہے جبکہ وقوعے کے تین گواہ ہیں۔شوہر، دیور اور تیسرے شخص نے ملزم کو وقوعے کے وقت روکا کیوں نہیں، مقتولہ کو ذبح کیا جا رہا تھا تو عینی شاہدین خاموش تماشائی بنے کھڑے رہے۔
وکیل مدعی نے عدالت کوبتایا کہ مقتولہ کو ذبح کرنے سے قبل گلے میں دوپٹہ ڈال کر چارپائی سے باندھا گیا تھا، جس پر جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ میں دوپٹے کے نشانات کا ذکر نہیں، دوپٹے کو فارنزک کے لئے کیوں نہیں دیا گیا۔
جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ ہائیکورٹ نے بری نظر رکھنے اور چھری برآمدگی کو اپنے فیصلے میں قابل بھروسہ نہیں لکھا۔مدعی اور گواہوں کے مطابق واقعہ صبح ساڑھے چھ بجے کا ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت پہلے ہو چکی تھی، مدعی کی جانب سے پوسٹ مارٹم رپورٹ کو چیلنج نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے ملزم منور حسین کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا اور حکم دیا کہ اگر درخواست گزار کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کیا جائے۔
یادرہے کہ مقتولہ کوفیصل آباد کے گاؤں میں سال 2016 میں چھری کے وار سے قتل کیا گیا تھا۔ٹرائل کورٹ نے ملزم کو عمر قید کی سزا دی تھی جسے ہائیکورٹ نے برقرار رکھا تھا۔سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیاہے۔




























