اسلام آباد()اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس کی عدالت نے وفاقی دارالحکومت کے علاقہ نور پور شاہاں کو ماڈل ویلج بنانے کے عدالتی حکم کے باوجود سی ڈی اے آپریشن کے خلاف توہین عدالت کیس میں چئیرمین سی ڈی اے ، ڈی جی انفورسمنٹ اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ کو جاری عدالتی شوکاز نوٹس پردلائل طلب کرلیے جبکہ متعلقہ حکام پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔گذشتہ روز سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل ریاست آزاد ، قیصر امام اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت چیئرمین سی ڈی اے، ڈی جی انفورسمنٹ اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ کی جانب سے عدالتی شوکاز نوٹسز پر جواب جمع کرائے گئے، درخواستگزار وکلاء نے موقف اختیار کیاکہ ہائیکورٹ نے جون 2025 میں نور پور شاہاں کو ماڈل ویلج بنانے کا حکم دیا عدالتی حکم پر عمل درآمد کے بجائے سی ڈی اے نے وہاں آپریشن شروع کردیا،جسٹس انعام امین منہاس نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے کے متعلقہ حکام پر برہم ہوتے ہوئے ریمارکس دیےیہ آپکا نیا نیا کیرئیر ہے آپکو پتہ نہیں توہین عدالت کیا ہوتی ہے ، ہائیکورٹ کے حکم پر عمل درآمد کروانا عدالت کا کام ہے،عدالت نے شوکاز نوٹس کے جواب پر فریقین سے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کرلیے کیس کی سماعت دو ہفتوں بعد تک ملتوی کردی گئی۔عدالت نے عدالتی حکم عدولی پر چیئرمین سی ڈی اے ، ڈی جی انفورسمنٹ اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔






























