اسلام آبادہائی کورٹ :بانی پی ٹی آئی کی طرح کی سہولیات مانگنے والے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستیں مسترد

اسلام آباد(عدالتی رپورٹر)
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی بانی پی ٹی آئی کی طرح پرائیویٹ اسپتال سے علاج اور اہل خانہ سے بیرون ملک ٹیلیفونک گفتگو کی سہولت فراہم کرنے کے لیے دائر درخواستیں مستردکر دیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف نے قیدیوں اویس الطاف، الیاس خان اور محمد اسماعیل کی درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے پر 27 اگست کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

عدالت کے ریمارکس
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں میڈیکل سہولیات میسر نہ ہونے پر میڈیکل بورڈ کی تجویز پر قیدی کا نجی اسپتال سے علاج ہو سکتاہے۔”اس میں کوئی شک نہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا تمام ہائیکورٹس پر اطلاق ہوتا ہے”۔ عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کی 18 اگست کی ہدایات عبوری نوعیت کی ہیں۔ حوالہ کے طور پر پیش کیا گیا کیس سپریم کورٹ میں زیر التواءہے۔ اس عبوری حکمنامہ کو حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کیس وار فیصلے
قیدی محمد اسماعیل کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے میں عدالت نے لکھا کہ درخواست گزار 2 اگست کا آفس آرڈر غیر قانونی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ یہ بھی ثابت نہ کر سکا کہ اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔

عدالت نے کہا اگر قیدیوں کے لیے قانوناً واٹس ایپ، ویڈیو کال یا رابطے کا کوئی اور ذریعہ دستیاب ہو تو متعلقہ حکام اس درخواست پر غور کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت جیل کے نظم و ضبط، سکیورٹی تقاضوں اور پاکستان پریزن رولز 1978 کے مطابق ہوگی۔

قیدی اویس الطاف کی نجی اسپتال میں علاج کے لیے منتقلی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ قیدی کا جیل کے اسپتال یا سرکاری اسپتال میں علاج نہ ہونے کی میڈیکل بورڈ کی رائے کے بغیر بنیادی حق قرار نہیں دیا جا سکتا۔اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں میڈیکل سہولیات میسر نہ ہونے پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جا سکتاہے۔ قیدی کا نجی اسپتال میں علاج میڈیکل بورڈ کی تجویز پر ہی ہو سکتاہے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین