اسلام آبادہائیکورٹ نے راول جھیل کنارے نیول فارمز اور سیلنگ کلب کوغیر قانونی قرار دینے کا حکم کالعدم قراردیدیا

اسلام آباد(عدالتی رپورٹر) اسلام آباد ہائیکورٹ نے راول جھیل کنارے نیول فارمز اور سیلنگ کلب کوغیر قانونی قرار دینے کا حکم کالعدم قراردیدیا

سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی کا فیصلہ بھی منسوخ کردیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے 2022 میں سنگل بنچ کی جانب سے راول جھیل کے کنارے پاکستان نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف درخواستیں منظور کر لیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں:
– نیول سیلنگ کلب کی عمارت گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا
– سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی کا فیصلہ بھی منسوخ کر دیا
– آڈیٹر جنرل کو قومی خزانے کو نقصان کا تخمینہ لگانے اور ملوث افسران سے رقم واپس لینے کا حکم بھی کالعدم قرار دیا
– نیول فارمز کو پاکستان نیوی ہیڈکوارٹر کے آفس کے نام پر زمین کا انتقال غیر قانونی قرار دینے کا حکم بھی کالعدم قرار دیاہے۔

کیس کا پس منظر
وزارت دفاع، سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی اور دیگر نے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی تھی۔

کیس کی سماعت کے دوران سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی کی جانب سے اشتر اوصاف پیش ہوئے۔

درخواست گزاروں کی جانب سے اشتر اوصاف، سردار احمد جمال اور عبد الواحد قریشی جبکہ وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور سی ڈی اے کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین