راولپنڈی (ویب ڈیسک)
3 نومبر 2026
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ فیکٹری ناکہ اڈیالہ روڈ پہنچ گئے، میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر کی بانی سے ملاقات نظام کی ضرورت تھی کیونکہ بانی کے مقدمات آگے نہیں بڑھ رہے۔
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سلمان صفدر نے عدالت میں کہا تھا کہ بانی سے ملاقات تک دلائل نہیں دوں گا، بانی سے ملاقات نظام کی ضرورت تھی یہ ہم پر احسان نہیں۔ ملاقات میں قانونی پہلو کے ساتھ بانی اور بشریٰ بی بی کی صحت پر بات ہوئی۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس ملاقات کے بعد جو بھی قانونی راستہ ہوگا وہ اختیار کریں گے۔ سلمان صفدر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہائی اسپرٹ میں تھے، بانی کی باڈی لینگویج اور جذبہ قابل دید تھا، بانی کسی طور پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ قانونی نوعیت کی ملاقات بانی کے ساتھ ہوئی ہے، ملاقات میں قانونی، صحت اور باقی معاملات بھی زیر بحث آئے۔ اس ملاقات سے کسی بریک تھرو کا امکان نہیں، ہم جس ملاقات کی بات کر رہے ہیں وہ سیاسی نوعیت کی ملاقات ہے، جب تک سیاسی نوعیت کی ملاقات نہیں ہوگی معاملات آگے نہیں بڑھیں گے۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھے پارٹی میں فارورڈ بلاک کے امکانات نظر نہیں آ رہے، لیکن کسی امکان کو خارج بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پارٹی کے اندر کسی کے ذہن یا دل میں کھوٹ ہے تو سامنے آ جائے گا، بانی پی ٹی آئی کے موقف سے جو بھی پیچھے جائے گا اس کی سیاست ختم ہو جائے گی۔
بیرون ملک سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعلق انہوں نے کہا کہ بیرون ملک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا پارٹی یا پالیسی سے کوئی تعلق نہیں، ہمارا جو آفیشل ترجمان ہے یا ان کی ٹیم ہے وہی پارٹی پالیسی پر بیان جاری کرتے ہیں۔ میں باہر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف بات نہیں کر رہا لیکن وہ ہمارے تابع نہیں ہیں۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں سلمان صفدر کی ملاقات سے کوئی امید نہیں، ارادے بھی اچھے نظر نہیں آ رہے۔ ملاقات سے پہلے سلمان صفدر نے مجھے آگاہ کیا تھا۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے متعلق کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کو مسیحا نہیں کہہ رہے، ہم یہ کہتے ہیں جبر کے نظام میں جو ہمارے ساتھ چلتا ہے ہم ان کو کیوں دھتکاریں۔ ہم کسی پر انحصار کرتے ہیں نہ کسی کے مرہون منت ہیں۔ مولانا کی اپنی سیاست ہے ان کے پاس اسٹریٹ پاور بھی ہے، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ باضابطہ اتحاد نہیں، لیکن تحفظ آئین پاکستان کے تحت سیاسی جماعتیں اکٹھی چل رہی ہیں۔
بانی کے پی میں حکومت ختم ہونے اور باقی سیاسی معاملات سے واقف تھے، بانی کو تواتر سے اخبارات نہیں مل رہے ٹی وی بھی نہیں لیکن بشریٰ بی بی کو اخبارات اور ٹی وی کی ایکسیس ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے سیاسی معاملات اور کے پی میں حکومت گرنے پر مایوسی کا اظہار نہیں کیا۔
حکومتی مذاکرات پر کہا کہ ہمیں ایسی کوئی وزارت اعلیٰ قابل قبول نہیں جس کے لیے ہمیں اصولوں سے پیچھے ہٹنا پڑے۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات ایک ڈھکوسلہ تھا، انہوں نے تمام تیاریاں پہلے کر رکھی تھیں۔ ہماری وجہ سے مذاکرات ناکام نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو دہشتگردی کے خلاف ملٹری آپریشنز کا بلینک چیک نہیں دے سکتے، ہم ہرگز اجازت نہیں دے سکتے کہ ڈرون مارو اور لاکھوں لوگوں کو بے گھر کریں۔ اس ملک میں ہزاروں لوگ گمشدہ ہیں۔ خیبر ضلع میں ہزاروں لوگ بے گھر ہیں، لاکھوں لوگ خیمہ بستیوں میں جی رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ہم نے تجویز دی تھی کہ 72 گھنٹوں میں سیاسی عمائدین اور جماعتوں کا اجلاس بلاتے ہیں، اس میں طے کر لیتے ہیں کہ دہشتگردی سے کیسے نمٹنا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان میں یہ نہیں لکھا کہ ڈرون چلیں گے اور لوگ بے گھر ہوں گے۔ جس مذاکراتی اجلاس کی تجویز ہم نے دی تھی گورنر راج لگانے کے بعد وہی اجلاس انہوں نے خود بلایا۔ ہم نے دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے لیکن بے گناہوں کو بے گھر نہیں کرنا۔





























