دنیا میں یومیہ یوٹیوب پرچھپن کروڑ ویوز دیکھ کرپاکستانی پہلے نمبر پر آگئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک)
3 نومبر 2026

دنیا میں یومیہ یوٹیوب پرچھپن کروڑ ویوز دیکھ کرپاکستانی پہلے نمبر پر آگئے ہیں۔یہ انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اجلاس میں ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ ملک کے 24 شہروں میں فائیو جی آ رہا ہے، انٹرنیٹ فراہمی میں تعطل کی کئی وجوہات ہیں، لوگ پورا پورا ٹاور چوری کر کے لے جاتے ہیں۔قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس کی صدارت ایم کیو ایم کے رہنما سید امین الحق نے کی۔

چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کمیٹی کو سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ٹک ٹاک کے 10 کروڑ صارفین ہیں، 15 کروڑ پاکستانی ٹک ٹاک پر ویڈیوز دیکھتے اور اپلوڈ کرتے ہیں، اس وقت 96 ملین پاکستانی یوٹیوب استعمال کر رہے ہیں، پاکستان میں لوگ یوٹیوب پر روزانہ 560 ملین ویڈیوز دیکھتے ہیں، دنیا میں یوٹیوب ویڈیوز دیکھنے میں پاکستان سرفہرست ہے، پاکستانی واٹس ایپ پر روزانہ کروڑوں کالز اور میسجز کرتے ہیں۔

قائمہ کمیٹی اجلاس میں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ترمیمی بل پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری قانون نے بتایا کہ پی ڈی اے ترمیمی بل پر پیپلز پارٹی سے تفصیلی مشاورت کی ہے، یہ بل اولین ترجیح ہے جسے اگلے سیشن میں منظور کروانا ہے۔

کمیٹی اراکین نے انٹرنیٹ سروسز کے مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیلی کام کمپنیوں کی ناقص سروس پراظہار برہمی کیاہے۔ رکن کمیٹی احمد عتیق نے کہا کہ میرے حلقے سے لے کر کراچی تک نیٹ ورک کام نہیں کر رہا، نیٹ ورک انتہائی خراب ہے، ہر میٹنگ کے بعد نیٹ ورک زیادہ خراب ہو جاتا ہے، اڑھائی سال سے یہ معاملات ڈسکس کر رہے ہیں لیکن حل نہیں نکل رہا۔ سروس کا حال یہ ہے کہ اسلام آباد جیسے شہر میں بھی واٹس ایپ پر کال کٹ جاتی ہے، دیہی ایریاز میں تو تھری جی بھی نہیں چلتا آپ فائیو جی کی بات کر رہے ہیں۔

رکن کمیٹی آسیہ اسحاق نے کہا کہ جب سے فائیو جی سروس متعارف کرائی گئی ہے اس کے بعد فور جی بھی نہیں چل رہا، کیا ہم آپ لوگوں کے لیے سپریم کورٹ میں چلے جائیں۔

چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کے ہمراہ کوالٹی آف سروس بہتر بنانے کے لیے 41 اضلاع کے دورے کیے، ٹیلی کام کمپنیوں کو سروس بہتر کرنے کی ہدایت کی ہے، کمپنیوں کو شوکاز جاری کرنا ہمارے پاس آخری آپشن ہے، کمپنیاں جرمانے پر عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کر لیتی ہیں۔ ہم نے اضلاع میں جا کر ٹاورز کا معائنہ کیا ہے۔

سیکرٹری وزارت آئی ٹی نے کہا کہ سروسز بہتر بنانے کے لیے جن مسائل کا سامنا تھا ان پر کام کیا، 2 سالوں میں اپلوڈ اور ڈاؤن لوڈ کی سپیڈ بڑھی ہے، ٹیلی کام سیکٹر کے مسائل کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے کہا کہ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے باعث پاکستان میں ڈیٹا کے استعمال میں بہت اضافہ ہوا ہے، نواز شریف کے جانے کے بعد کوئی اسپیکٹرم آکشن نہیں ہوئی تھی، نواز شریف ملک کو فور جی دے گئے، ہم نے فائیو جی کی اسپیکٹرم آکشن کرائی، ملک میں 18 لاکھ لوگ فائیو جی استعمال کر رہے ہیں، 24 شہروں میں فائیو جی آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام سروسز کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، سروسز میں خرابی کی کئی وجوہات ہیں، کئی علاقوں میں پورا ٹاور چوری ہو جاتا ہے، ڈیزل چوری ہو جاتا ہے، جنریٹر چوری ہو جاتا ہے۔

رکن کمیٹی آسیہ اسحاق نے پوچھا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں کا سارا ڈیٹا شوکت خانم ہسپتال کے ساتھ شیئر کیا گیا جو وہاں سے بیرون ممالک بھیجا گیا۔یہ کیا معاملہ ہے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین