راولپنڈی (ویب ڈیسک)
3 نومبر 2026
راولپنڈی میں نہایت ہی سفاکیت سے گھر کے اندر قتل کی جانیوالی حنا جاویدکیس میں مقتولہ کے لواحقین نے راولپنڈی پولیس کے ری انویسٹیگیشن کے عمل کومسترد کر تے ہوئے عدم اعتماد ظاہر کردیاہے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق ایس ایس پی انویسٹیگیشن سیف اللہ نے خاندان سے رابطہ کیا، راولپنڈی پولیس نے ری انویسٹیگیشن دوسرے ضلع میں منتقل کرنےکی درخواست پر دستخط کےلئے بلایاتھا۔درخواست پڑھنے کے بعد ری انویسٹیگیشن کا عمل مسترد کر دیاہے۔
متاثرہ خاندان نے بتایا کہ ری انویسٹیگیشن پر تحفظات کے بارے میں پارلیمنٹ کی داخلہ کمیٹی کو مراسلہ بھیجا ہے، مراسلے میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا گیاہے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحقیقات دوسرے ضلع کی پولیس کو منتقل کرنے کے لیے درخواست دینے کا کہا ہے، پنجاب پولیس کی اعلیٰ سطح کمیٹی پہلے ہی نامزد ملزمان کو بے گناہ قرار دے چکی ہے۔
خاندان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایڈیشنل آئی جی کی تحقیقات سے مطمئن نہیں، ماتحت افسران سے دوبارہ تحقیقات کا فائدہ نہیں، ماتحت افسران ایڈیشنل آئی جی کی فائنڈنگز کو کیسے مسترد کر سکتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حنا جاوید قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔
متاثرہ خاندان نے فرانزک رپورٹس کے حصول کےلئے رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے تحت درخواست بھی دے دی۔ مقتولہ کے بھائی فہد جاوید نے فرانزک رپورٹس کے حصول کے لئے پراسیکیوٹر جنرل کو درخواست بھیجی۔
درخواست میں کہا گیا کہ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے ڈی این اے ٹیسٹ، موبائل فونز، لیپ ٹاپ اور دیگر اشیا فرانزک لیبارٹری لاہور بھجوائی تھیں، فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے باوجود مدعی کو نقول فراہم نہیں کی گئیں، قانون کے تحت تمام فرانزک رپورٹس اور دیگر شواہد کی نقول فراہم کی جائیں۔
متاثرہ خاندان نے کہا کہ پنجاب پولیس کی غیر جانبداری پر اعتماد نہیں، شفاف تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن ہی واحد راستہ ہے جس کے بعد انصاف کی توقع کی جاسکتی ہے۔





























