اسلام آباد(ویب ڈیسک)
31اکتوبر2026
اسلام آبادہائیکورٹ نے قراردیاہے کہ مقدمےسے بری ہونےپرکریکٹرسرٹیفکیٹ بنوانےوالے شہریوں کےلئےاس کیس کاحوالہ کریکٹر سرٹیفکیٹ میں نہ دیا جائے۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو اس حوالے سے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت بھی کر دی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز شوکت نے مفاد عامہ کا فیصلہ جاری کردیا۔عدالت نے بریت کے بعد ایف آئی آر کا کریکٹر سرٹیفکیٹ میں حوالہ غیر قانونی قرار دے دیا اور پولیس کی جانب سے شہری کو جاری پہلا کریکٹر سرٹیفکیٹ غیر قانونی قرار دیا۔
عدالت نے کہا کہ قانون شہریوں کو جو حق دے چکا اس کے لیے عدالت آنا ضروری نہیں، بری ہونے والے شہریوں کو عدالت آنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
عدالت نے تھانہ شالیمار کی ایف آئی آر کا حوالہ کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ختم کرتے ہوئے شہری کی درخواست منظور کر لی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں حتمی بریت پر ختم ہونے والی ایف آئی آر کو ظاہر کرنے کی کوئی قانونی گنجائش نہیں، پولیس اندرونی ریکارڈ اپنے پاس رکھ سکتی ہے لیکن بیرون ملک جانے والے شہری کے سرٹیفکیٹ میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ بری ہونے والے شخص کو مجرم کی طرح پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ بریت کے بعد ایف آئی آر کا اندراج آئین کے آرٹیکل 4، 9، 15 اور 14 کی خلاف ورزی ہے۔ پولیس سرٹیفکیٹ میں درج تھا کہ ملزم تفتیش میں ڈسچارج اور عدالت نے اتفاق کیا جو غلط ہے، پٹیشنر کو ڈسچارج ظاہر کر کے اسکی قانونی حیثیت کو کم کیا گیا۔































