سیکٹر آئی بارہ کے الاٹیوں کو قبضہ ملنےکی افواہوں سے پلاٹوں کی قیمتیں میں ہوشربا اضافہ
سیکٹر آئی بارہ میں سی ڈی اے کی طرف سے الاٹیوں کو قبضہ دینے کی افواہوں نے پلاٹوں کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کر دیا ہے، حالانکہ سی ڈی اے کی جانب سے تاحال کوئی باقاعدہ اعلان سامنے نہیں آیا جس میں رہائشی پلاٹوں کا قبضہ دینے کی تصدیق کی گئی ہو۔یہ ابہام 29 جنوری2026 کے ایک مراسلے سے پیدا ہوا، جس میں ڈائریکٹر جنرل (ورکس) نے ڈائریکٹر جنرل لینڈ اینڈ ری ہیبیلیٹیشن کو لکھا کہ سیکٹر آئی بارہ اور سی چودہ میں قبضہ دینے کے عمل کا “آغاز کیا جا سکتا ہے”۔ تاہم اس خط میں نہ تو حتمی منظوری دی گئی اور نہ ہی کوئی پبلک نوٹیفکیشن جاری ہوا۔
اس کے باوجود بعض پراپرٹی ڈیلرز اور انویسٹر حضرات نے قبضہ دینےکی باقاعدہ منظوری کا تاثر دے کر قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔ اس سے 25×50 کا پلاٹ جو پہلے 85 سے 90 لاکھ روپے میں دستیاب تھا، اب 1 کروڑ 30 لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 30×60 کا پلاٹ 1 کروڑ 30 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
متعدد الاٹیز کے مطابق علاقے میں سڑکیں کچی ہیں، پانی، بجلی اور گیس کی سہولت میسر نہیں اور سیوریج کا نظام بھی نامکمل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ ترقیاتی کام کے بجائے افواہوں پر مبنی ہے۔ الاٹیز نے سی ڈی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکٹر آئی بارہ کے قبضہ دینےاور ترقیاتی کام کی حقیقی صورتحال پر فوری وضاحت جاری کی جائے۔






























