اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما)نے وزارت صنعت و پیداوارسے مجوزہ نئی آٹو پالیسی کا مسودہ وزیراعظم کی منظوری سے قبل آٹوانڈسٹری کے ساتھ شیئر کرنے کا مطالبہ کر دیاہے۔
پاما کی جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آٹوانڈسٹری سامنے آنے والی رپورٹس اور افواہوں پرتشویش کا شکار ہے کہ نئی آٹو پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور اسے جلد وزیراعظم کے سامنے پیش کئے جانے کی توقع ہے۔
ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مجوزہ پالیسی میں مقررہ برآمدی اہداف حاصل نہ کرنے کی صورت میں مینوفیکچررز کے لیے اضافی ٹیرف اور حتیٰ کہ مینوفیکچرنگ لائسنس منسوخ کرنے جیسے سخت اقدامات تجویز کیے جا سکتے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل پاما رضی الرحمٰن نے کہا کہ صنعت برآمدات بڑھانے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے، تاہم یہ ہدف سزا دینے والے اقدامات کے بجائے مناسب مراعات، سہولت کاری اور قابل پیش گوئی پالیسی فریم ورک کے ذریعے بہتر انداز میں ممکن ہے۔
رضی الرحمن نے مذیدکہا کہ برآمدات میں اضافہ طویل مدتی عمل ہے۔جسکے لئے ٹیکنالوجی، بین الاقوامی سرٹیفکیشن، نئی منڈیوں کی ترقی اورمسابقتی سپلائی چینز میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔





























