اسلام آباد (ویب ڈیسک)
07 اکتوبر 2026
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس ریٹرنز کی الیکٹرانک جانچ پڑتال کا نظام متعارف کرانے کافیصلہ کر لیاہے۔
ایف بی آر نے انکم ٹیکس رولز 2002 میں مزید ترامیم کا مسودہ جاری کرتے ہوئے ٹیکس دہندگان کے انکم ٹیکس ریٹرنز کی خودکار اور الیکٹرانک جانچ پڑتال کے لئے نیا طریقہ کار تجویزکیاہے۔
ایف بی آر نے مجوزہ ترامیم تمام متعلقہ افراد کی معلومات کے لئے جاری کی ہیں اور ان پر اعتراضات یا تجاویز سرکاری گزٹ میں اشاعت کے تین روز کے اندر طلب کرلی ہیں۔
مجوزہ نئے رول 38 بی کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 120 کی ذیلی دفعہ 2 اے کے تحت ٹیکس دہندگان کی جانب سے جمع کرائے گئے انکم ٹیکس ریٹرنز پر کارروائی کے لیے سی آر ایم سمیت ایک خودکار نظام قائم کیا جائے گا۔
مجوزہ مسودہ کے مطابق خودکار نظام کے ذریعے سامنے آنے والے مسائل، قانونی یا حقائق پر مبنی غلطیوں اور تضادات سے متعلق ٹیکس دہندہ کو آئی آر آئی ایس کے ذریعے آن لائن مشورے یا پیشگی اطلاع بھیجی جا سکے گی۔
تجویز کردہ قواعد کے مطابق یہی پیشگی اطلاع متعلقہ ان لینڈ ریونیو افسر کی جانب سے بھی بھیجی جا سکے گی۔ اطلاع میں جواب دینے کے لئے کم از کم 7 دن کی مہلت دی جائے گی۔جس میں ٹیکس دہندہ تضاد کی وضاحت یا اصلاح کر سکے گا۔
اگر ٹیکس دہندہ مقررہ مدت میں جواب نہیں دیتا تو اسے یاددہانی بھیجی جائے گی جس کے لئے بھی کم از کم 7 دن کی مہلت ہو گی۔
مجوزہ مسودے کے مطابق خودکار نظام کے ذریعے سامنے آنے والے مسائل، بھیجی گئی اطلاع اور موصولہ جواب کا ریکارڈ متعلقہ ان لینڈ ریونیو افسر کو فراہم کیا جائے گا اور تمام ریکارڈ ڈیش بورڈ میں محفوظ کیا جائے گا۔
مجوزہ مسودہ میں تجویز دی ہے کہ یہ طریقہ کار چینج ریکوئسٹ فارم (سی آر ایف) کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔






























