
(ویب ڈیسک)
06اکتوبر۔2026
مودی کے زیر اثر بھارتی پولیس چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج پر ظلم و تشدد کی نئی مثالیں قائم کرنے لگی۔
عالمی جریدہ الجزیرہ کے مطابق مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کے گٹھ جوڑ پر بھارتی نوجوانوں کا احتجاج بڑے پیمانے پر شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق احتجاج کے دوران خاتون صحافی بھی بھارتی پولیس کی جنسی ہراسانی سے محفوظ نہ رہیں۔
بھارتی جریدہ دی ہندو کے مطابق بھارتی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ دبانے کے لیے احتجاج کے تیسرے روز 500 نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی پولیس کا پرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن جمہوری اقدار پر سوالیہ نشان ہے۔
































