اسلام آباد (ویب ڈیسک)
06اکتوبر۔2026
مکہ الائنس برائے دفاع کے ہنگامی اجلاس میں اجتماعی دفاعی اقدامات فوری نافذ کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
سعودی عرب،پاکستان اور ترکیہ نے مکہ الائنس برائے دفاع کی اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا۔جس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات اور حالیہ پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے اجتماعی دفاعی اقدامات پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیاہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس ریاض میں منعقد ہوا جس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں مکہ الائنس برائے دفاع کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید فعال بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ کمیٹی نے پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو مکہ الائنس برائے دفاع کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا۔ ان کی تعیناتی تین سال کے لئے کی گئی ہے۔
فریقین نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کونشانہ بنانےکی کوششوں سمیت سعودی عرب کے شہروں،شہری واقتصادی تنصیبات پر جاری حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ پاکستان اور ترکیہ نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا دھمکی کو مسترد کر دیا۔
اجلاس میں سعودی مسلح افواج کی مستعدی، تیاری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور اعلیٰ کارکردگی کو سراہا گیا اور سیاسی و عسکری مشاورت کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد پیش کردہ سفارشات کی منظوری دی گئی۔
کمیٹی نے کہا کہ مکہ الائنس برائے دفاع اجتماعی دفاع اور خطرات کا متحد ہو کر مقابلہ کرنے کے عزم کا عملی اظہار ہے۔ اجتماعی دفاع سے متعلق وعدوں پر فوری عملی اقدامات شروع کرنے، طے شدہ فوجی دستے اور مطلوبہ صلاحیتیں فراہم کرنے اور انہیں سعودی عرب میں تیزی سے تعینات کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔
اعلامیہ کے مطابق فوجی دستوں کی فراہمی اور تعیناتی متعلقہ ممالک کے منظور شدہ انتظامات اور قومی قوانین کے مطابق ہوگی۔ ہر رکن ملک کی سلامتی تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔ تینوں ممالک نے اپنے دفاع، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔






























