اوکاڑہ (ویب ڈیسک)
11 اکتوبر 2026
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہاہے کہ ن لیگ،پی پی نے مل کر عوام دشمنی کی ہےاور جمہوریت پرشب خون مارا ہے،خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے فیصلے کو فوری واپس لیا جائے۔
اوکاڑہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل(بارہ اکتوبر) منصورہ میں مشاورت ہوگی، لانگ مارچ سے متعلق اہم فیصلے کئے جائیں گے،وزیر اعظم شہباز شریف نے پٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو ملتان سے لانگ مارچ کا آغاز ہو جائے گا، ہمارے مطالبات واضح ہیں فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت کے خاص کمپوننٹ ن لیگ، پی پی نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگا کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے، حکومت اگر سمجھتی ہے کہ اس سے مسئلہ حل ہو جائے گا تو ماضی گواہ ہے ایمرجنسیاں لگانے سے مسائل ختم نہیں ہوتے، مطالبہ کرتے ہیں یہ گورنر راج فوری طور پر ختم کر کے مذاکرات کی میز سجائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پی پی اور ن لیگ اسٹیبلشمنٹ کی گود میں پروان چڑھیں، یہ دونوں پارٹیاں جمہوریت کے نام پر کلنک کا ٹیکہ ہیں، انہوں نے آج پھر کالک اپنے چہرے پر مل لی ہے، پی پی نے مشرف سے این آر او لیا، ماضی میں آصف زرداری نے پنجاب میں گورنر راج لگایا، پی ڈی ایم نے خرید و فروخت کر کے رجیم تبدیل کیا، تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد پی ڈی ایم آئی پھر پی ڈی ایم ٹو آئی، پی پی نے کراچی کے مینڈیٹ کو روندھ ڈالا۔ پی پی نے بلدیاتی انتخاب میں جماعت اسلامی کے مینڈیٹ کو چرا کر اپنا میئر بنایا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ن لیگ 40 سال سے پنجاب پر مسلط ہے، انہوں نے تعلیم، صحت، زراعت کو تباہ کر دیا، گندم کسانوں سے 3 ہزار من سے بھی کم قیمت پر خریدی گئی، آج گندم ساڑھے 5 ہزار من ہے، آٹا ساڑھے 6 ہزار روپے من ہے، مریم نواز کی حکومت نے کسان اور عوام کو برباد کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل پر پاکستان میں کوئی آواز نہ تھی، جماعت اسلامی نے عوام کے مسائل پر آواز بلند کی، کارکنوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کا بچہ بچہ سمجھ گیا ہے کہ لیوی بھتہ کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ حکمرانوں کا اپنی کرپشن اور نااہلی چھپانے کے لیے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ہے، جماعت اسلامی کی تحریک کے نتیجے میں حکومت نے پٹرول پر ریلیف دیا لیکن یہ جزوی ریلیف ہے حکومت کو لیوی بھتہ مکمل طور پر ختم کرنا پڑے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کل پیر کو منصورہ میں مشاورت ہوگی، اگر حکومت لیوی ختم نہیں کر سکتی تو ہم احتجاج ختم نہیں کر سکتے، ہمارے پرامن احتجاج کو کمزوری نہ سمجھا جائے، کارکن تیاری کریں، دستخطی مہم جاری رکھیں اور کل کے فیصلوں کا انتظار کریں۔
































