اسلام آباد (ویب ڈیسک)
20 اکتوبر 2026
سپریم کورٹ نے جائیداد کے تنازع پر خاتون کو قتل کرنے والے مجرم محمد اظہر کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھنے کاحکم دیدیا ہے
سپریم کورٹ کےجسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلہ جاری کر دیاہے۔
سپریم کورٹ فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ کے دو گواہ مقتولہ کا بیٹا اور اس کا بہنوئی تھے، گواہوں کے بیانات اور طبی شواہد کے درمیان زخموں کی تعداد میں فرق پایا گیا۔
فیصلہ میں قرار دیا کہ دہشت اور خوف کے عالم میں انسانی حواس اور مشاہداتی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، طبی اور چشم دید گواہی میں معمولی فرق بیان کی سچائی کو متاثر نہیں کرتا، گواہان سے انتہائی مائیکرو اسکوپک اور سیکنڈ بہ سیکنڈ درستگی کی توقع غیر فطری ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ہر انسان اچانک پیش آنے والی صدمہ انگیز صورت حال میں مختلف انداز سے ردعمل ظاہر کرتا ہے، خوف کے عالم میں گولیوں کی درست تعداد یاد رکھنا انسانی حد سے باہر ہے۔
مقدمے کے مطابق مجرم محمد اظہر نے جائیداد کے تنازع پر 2017 میں گھر میں داخل ہو کر خاتون کو فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی جبکہ شریک ملزم کو بری کر دیا تھا۔بعدازاں ہائیکورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھاہے۔






























