اسلام آباد (ویب ڈیسک)
20 اکتوبر 2026
بیرون ملک پاکستانی قیدیوں اور توانائی شعبے کے گردشی قرضوں سے متعلق رپورٹس قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہیں۔
قومی اسمبلی میں وزارت خارجہ کے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ دنیا کے 71 ممالک میں 21 ہزار 647 پاکستانی قید ہیں، سب سے زیادہ متحدہ عرب امارات میں 5 ہزار 297، سعودی عرب میں 4 ہزار 775 اور بھارت میں 738 پاکستانی قیدی موجود ہیں۔ ایوان کو بتایا گیا کہ پاکستانی شہری بیرون ملک دھوکہ دہی، منشیات اسمگلنگ، جعلی ویزوں، جعلی دستاویزات سمیت دیگر مقدمات میں قید ہیں۔
قومی اسمبلی میں پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 30 جون 2025 تک ایک ہزار 641 ارب روپے تھا جو 30 جون 2026 تک بڑھ کر ایک ہزار 675 ارب روپے ہو گیا، ایک سال میں 34 ارب روپے اضافہ ہوا، جس کی ایک وجہ کے الیکٹرک کے واجبات کی عدم ادائیگی ہے، معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔
قومی اسمبلی میں پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ 30 جون 2025 کو 3 ہزار 288 ارب روپے تھا جو ایک سال میں 344 ارب اضافے سے 30 جون 2026 تک 3 ہزار 631 ارب روپے تک پہنچ گیا، جس میں ایک ہزار 783 ارب روپے تاخیر سے ادائیگیوں کا سرچارج شامل ہے۔
قومی اسمبلی میں اجلاس میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے ارکان اسمبلی کی عدم موجودگی اور پروڈکشن آرڈرز جاری نہ ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جنید اکبر، نسیم شاہ، عادل بازئی سمیت متعدد ارکان غائب ہیں، اسپیکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کریں۔
اسلام آباد میں پلاٹوں کا قبضہ نہ ملنے کے توجہ دلاؤ نوٹس پروزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے اعتراف کیا کہ سی ڈی اے کی کوتاہیاں ہیں، اسلام آباد میں ایک مافیا سی ڈی اے اور دوسرا جعلی متاثرین کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکٹر ای-12 میں گزشتہ ایک ماہ میں 4 ہزار 68 پلاٹس کا قبضہ دیا گیا اور 200 ارب روپے مالیت کا کمرشل رقبہ واگزار کرایا گیا، جبکہ سیکٹر سی-15 کا 50 فیصد ترقیاتی کام مکمل کرلیاگیاہے جبکہ باقی بھی کام تیزی سے جاری ہے۔
































