اسلام آباد(ویب ڈیسک)
18اکتوبر2026
ڈیجیٹل ڈیزائنر حنا جاوید قتل کیس میں سنسنی خیزانکشافات سامنے آئے ہیں۔مقدمہ میں نامزد مرکزی ملزم گھریلو ملازم ذیشان ارشد کے اہلخانہ منظر عام پرآگئے اورپولیس کیخلاف سراپااحتجاج بن گئے ہیں۔
ملزم ذیشان کے والد محمد ارشد نے اپنے بیان میں کہاہے کہ میرا بیٹا بے گناہ ہے، اسے ڈیجیٹل ڈائزئنر حنا جاوید قتل کیس میں مبینہ پھنسا کر مرکزی ملزم ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میرا بیٹا 7 ماہ پہلے سے مقتولہ کے گھر کام کرتا تھا۔
والد کے بیان مطابق گرفتاری کے بعد جیل میں دو ملاقاتیں ہوئیں، ذیشان نے بتایا مقتولہ اس کی ماؤں کی طرح تھی۔ حنا جاوید کے قتل کے بعد ہمیں 11 دن بعد اطلاع دی گئی۔
والدکے بیان مطابق ذیشان نے بتایا کہ 20 اگست کو رات میاں بیوی کا جھگڑا ہوا، شور شرابے پر وہ جاگا، حنا آگے بھاگ رہی تھی اور اس کا شوہر فیصل اصغر پیچھے بھاگا آیا۔ فیصل نے اسے ڈانٹا اور حنا کو پکڑنے کا کہا، انکار پر مارا پیٹا اور گن پوائنٹ پر پکڑنے کو کہا۔
والد نے اپنے بیان میں کہا ذیشان کے مطابق اس نے جو بھی کیا زبردستی کروایا گیا، فیصل اصغر نے خود حنا کا قتل کیا اور باتھ روم میں خود لٹکایا۔ ریمانڈ کے دوران پولیس نے تشدد کر کے جرم قبول کرنے پر مجبور کیا۔
والد نے مزید کہا کہ قتل کے چار دن بعد ملازمت پر رکھنے والے شخص تصور نے شناختی کارڈ مانگا تھا، پولیس نے نہ ہم سے رابطہ کیا نہ مالکان نے۔ ذیشان کی عمر 18/19 سال ہے، اس کے خلاف کہیں کوئی مقدمہ درج نہیں، پولیس جھوٹ بول رہی ہے کہ وہ ریکارڈ یافتہ ہے۔






























