
اسلام آباد (ویب ڈیسک)
20 اکتوبر 2026
طالبان رجیم کے زیر اثر افغان سرزمین منشیات اسمگلنگ اور دہشتگرد نیٹ ورکس کی آماجگاہ بن چکی ہے۔
ایک افغان جریدہ ہشت صبح کے مطابق افغانستان میں منشیات کی بلا روک ٹوک صنعتی پیداوار اور اسمگلنگ سے طالبان رجیم کے اعلیٰ عہدیداروں کو مالی وسائل حاصل ہو رہے ہیں، افغان طالبان کی سرپرستی میں قائم منشیات کی لیبارٹریاں اور اسمگلنگ مسلط رجیم کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ ہے۔
جریدے کے مطابق افغانستان میں قدرتی منشیات کے ساتھ میتھامفیٹامائن اور کرسٹل ڈرگز کی پیداوار اور پھیلاؤ بھی سنگین تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کے مطابق ناجائز طالبان رجیم میں افغانستان نارکو ٹیررسٹ اسٹیٹ بن چکا ہے جہاں منشیات اور دہشتگردی ایک دوسرے کو تقویت کا موجب بن رہے ہیں جو کہ دنیا کے لئے ایک لمحہ فکریہ سے کم نہیں ۔
































